
مصر میں سڑک حادثے میں ہر سال تقریباً آٹھ ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک سکول بس کے ٹرین سے ٹکرانے کے نتیجے میں کم از کم باسٹھ بچے ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دس سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی عمر چار سے چھ سال کے درمیان تھی۔ حادثے میں بس کا ڈرائیور بھی ہلاک ہو گیا۔
بس میں ایک نرسری سکول کے ساٹھ بچے سوار تھے جو قاہرہ سے تین سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر منفلوط کے مقام پر ٹرین سے ٹکرا گئی۔
مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد مصر کے وزیر ٹرانسپورٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
شاہدین کا کہنا ہے کہ جب بس وہاں سے گزر رہی تھی تو ریلوے کراسنگ کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ریاست کے گورنر نے کہا ہے کہ ریلوے کراسنگ کا گارڈ سو رہا تھا اور اسے معطل کر دیا گیا ہے۔
سرکاری نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے وزرا کو حکم دیا ہے کہ وہ سوگوار خاندانوں کو امداد فراہم کریں۔
عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد سمیر نے بتایا ’لوگوں نے مجھے بتایا کہ جب بس ریلوے ٹریک سے گزر رہی تھی تو ریلوے پھاٹک کھلا ہوا تھا اور ٹرین اس سے ٹکرا گئی۔‘
ریاستی ریلوے اتھارٹی کے سربراہ نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
مصر کی سڑک اور ریلوے لائنوں پر حفاظت کا ریکارڈ بہت خراب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال آٹھ ہزار لوگ ٹریفک کے حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں۔






























