
یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی سابق صدر حسنی مبارک کے چوبیس حامیوں کو گذشتہ برس کے انقلاب میں مظاہرین پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے
مصر کے صدر محمد مرسی نے ملک کے پراسیکوٹر جنرل عبدالمجید محمود کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
عبد المجید محمود کو وٹیکن کے لیے مصری سفیر کا مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ ان کا تقرر سنہ دو ہزار چھ میں کیا گیا تھا۔
تاہم مصر کے سرکاری میڈیا کے مطاقب عبدالمجید محمود کا کہنا ہے کہ وہ اپنا حکم عدولی کرتے ہوئے دفتر نہیں چھوڑیں گے۔
یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی سابق صدر حسنی مبارک کے چوبیس حامیوں کو گذشتہ برس کے انقلاب میں مظاہرین پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔
سیکنڑوں لوگوں نے قاہرہ میں بری ہونے والے افراد کے خلاف ریلی نکالی۔
مظاہرین نے ججوں پر سابق رہنماؤں کی حمایت کا الزام عائد کیا اور خالص انصاف کا مطالبہ کیا۔
مقدمے سے بری ہونے والے افراد کے ا س گروہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار افراد کو سنہ دو ہزار گیارہ میں قاہرہ میں ہونے والا مظاہرہ ختم کروانے کے لیے بھیجا۔
اس واقعے کو بعد میں اونٹوں کی جنگ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ حسنی مبارک کے حامیوں نے مظاہرین کو مشتعل کر دیا اور اس واقعے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
ملزمان میں سابق حکومت کے بعض اعلی اہلکار شامل ہیں۔
ان افراد میں مصر کی پارلیمنٹ کے سپیکرز فتحی سرور اور صفوت الشریف بھی شامل ہیں۔
مقدمے میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک کی نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل صفوت الشریف نے اپنی جماعت اور ممبران پارلیمان سے رابطہ کیا اور تحریر چوک مںی موجود مظاہرین کو تشدد اور طاقت کے ذریعے منتشر کرنے کے لیے اکسایا۔






























