
حال ہی میں مصری صدر مرسی نے فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا
مصری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر محمد مرسی اگست کے آخر میں غیر جانبدار ممالک کی تحریک ’نان الائنڈ موومنٹ‘ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایران کا دورہ کریں گے۔
یہ ممکنہ دورہ سنہ انیس سو انہتر میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد کسی مصری سربراہ کا پہلا دورۂ ایران ہوگا۔
ماضی میں آنے والی اطلاعات کے مطابق انہوں نے اس دورے پر اپنے نائب محمود میکی کو بھیجنا تھا۔
امریکہ اور سویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دوران تشکیل پانے والی غیر جانبدار ممالک کی یہ تحریک ترقی پزیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی۔
کئی دہائیوں کے تناؤ کے بعد صدر محمد مرسی کے دورے سے ایران اور مصر کے تعلقات میں بہتری کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مصر کے اسرائیل کی ریاستی حیثیت کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے اور ایران میں انقلاب کے بعد ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو ٹھیس پہنچی تھی۔
سابق صدر حسنیٰ مبارک کے دور میں مصر، شیعہ اکثریت والے ایران کے مقابلے میں سعوی عرب اور سنی اکثریت والے دیگر عرب ممالک کا ساتھ دیتا رہا ہے۔
جون میں جب ایک ایرانی خبر رساں ایجنسی نے صدر مرسی کی جانب سے یہ بیان شایع کیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کریں گے تو مصری صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایجنسی کے خلاف عدالتی کارروائی کریں گے۔






























