مصر میں جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں، ہلری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ واشنگٹن مصر میں جمہوریت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
یہ بات انہوں نے قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہی۔
ایک امریکی اہکار نے صدر مرسی اور ہلری کلنٹن کی ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کو بے تکلف اور پر جوش قرار دیا۔
مصری صدر سے بعد ملاقات کے بعد قاہرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ مصر اس لیے آئی ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ واشنگٹن مصری عوام اور جمہوریت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہم اچھے دوست بننا چاہتے ہیں اور جمہوریت کی حمایت کرنا چاہتے ہیں جو مصری عوام نے قربانیاں دے کر حاصل کی ہے۔‘
واضح رہے کہ صدر مرسی فوج کے ہاتھوں عدلیہ کے احکام پر تحلیل شدہ پارلیمان کو بحال کرنے کے بعد ایک آئینی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
اخوان المسلمین کے محمد مرسی جون میں مصر کے پہلے آزادانہ صدر منتخب ہوئے تھے۔
قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ کا موقف تھا کہ وہ اخوان المسلمین سے نہ بات چیت کرتے ہیں اور نہ ہی کبھی کرائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ صدر اوباما کی انتظامیہ نے نو منتخب مصری صدر سے بات چیت کا رستہ کھولنے میں کوئی تاخیر نہیں کی اور یہ حقیقت کو پہچاننے اور حالات کے بہترین استعمال کی مثال ہے۔
امریکی حکومت کا موقف ہے کہ مصر میں جمہوریت اور انسانی حقوق پامال نہ ہوں۔
اخوان المسلمین نے کئی مرتبہ اس بات کی تائید کی ہے کہ وہ عالمی طور پر تنہا نہیں ہونا چاہتے۔ مصر کی معیشت کا انحصار بین الاقوامی تجارت اور سیاحت پر بہت زیادہ ہے۔
صدر مرسی نے پارلیمان کی بحالی کے معاملے پر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ نو منتخب پارلیمان میں صدر محمد مرسی کی پارٹی کے ارکان کی اکثریت ہے۔
صدر کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فوج نے پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا جس کی وجہ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے یہ اعتراض تھا کہ انتخابات میں آزاد امیدواروں کے لیے مختص کی گئی نشستوں پر پارٹی اہلکاروں نے مقابلہ کیا تھا۔
ادھر صدر مرسی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مصری ججوں کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ریاستی طاقتوں کے درمیان تناؤ نہ پیدا ہو۔
اس ہفتے کے آغاز میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ مصری عوام کو وہ ملنا چاہیے جس کے لیے انہوں نے احتجاج کیا اور ووٹ ڈالے اور وہ ہے ایک مکمل طور پر منتحب حکومت جو کہ مصر کو مستقبل میں لے جاتے ہوئے خود فیصلے کرے۔
امریکی وزیرِ خارجہ اس وقت ایک ہفتے کے ایشیا کے دورے پر ہیں جس کے بعد وہ اسرائیل بھی جائیں گی۔







