’طنطاوی کی برطرفی، منفی ردعمل سامنے نہیں آیا‘

محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلین اور مصری فوج کے تعلقات ابتداء سے ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحمد مرسی کی جماعت اخوان المسلین اور مصری فوج کے تعلقات ابتداء سے ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں

مصر میں مسلح افواج نے صدر محمد مرسی کی طرف سے فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کے حیران کن اقدام کو چیلنج کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

سرکاری میڈیا نے ایک فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کی معزولی پر کوئی منفی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب مصر کے صدر محمد مرسی کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کو برطرف کرنے کے فیصلے کے حق میں ہزاروں افراد قاہرہ کے تحریر سکوائر میں مظاہرہ کیا ہے۔

تحریر سکوائر میں جمع ہونے والے یہ لوگ صدر محمد مرسی کے اس فیصلے کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔

صدر مرسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کی برطرفی کا اقدام قومی مفاد میں اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی فرد کو ہدف بنانا یا کسی خاص ادارے کو شرمندہ کرنا نہیں تھا۔

محمد مرسی کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ ملک کی فوجی قیادت کو اپنے عسکری کردار پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرے گا۔

صدر مرسی نے اتوار کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے ملک کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی اور ان کے نائب مصری فوج کے چیف آف سٹاف جنرل سمیع عنان کو ان کے عہدوں سے ریٹائر کر دیا تھا۔

صدارتی ترجمان یاسر علی کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’فیلڈ مارشل طنطاوی کو آج سے ریٹائر کر دیا گیا ہے‘۔ ترجمان کے مطابق جنرل عبدالفتاح السيسي کو ملک کا نیا فوجی سربراہ اور وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر کے اختیارات کم کرنے کے آئینی حکم کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد ایک تقریر میں مصری صدر نے کہا کہ ’میں نے آج جو فیصلہ کیا اس کا مقصد مخصوص افراد کو نشانہ بنایا یا اداروں کو شرمندہ کرنا نہیں تھا اور نہ ہی میں آزادیاں سلب کرنا چاہتا ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کسی کو کوئی منفی پیغام نہیں دینا چاہتا بلکہ میرا مقصد صرف اس قوم اور اس کے عوام کا فائدہ ہے‘۔

صدر مرسی نے ملک کی مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد وہ ’قوم کے دفاع کے مقدس فریضے‘ پر پوری طرح سے توجہ دے سکیں گی۔

ادھر اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد ہزاروں افراد قاہرہ کے تحریر سکوائر میں جمع ہوگئے اور انہوں نے صدر کے فیصلے سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

محمد مرسی جن کا تعلق اخوان المسلین سے ہے جون کے عام انتخابات میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ اخوان المسلین اور مصری فوج کے تعلقات میں ابتدا سے ہی تناؤ رہا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ مصری صدر کے پاس فوجی سربراہ کو ریٹائر کرنے کا اختیار ہے یا نہیں اور کیا چھہتر سالہ فیلڈ مارشل طنطاوی اس فیصلے کو قبول کریں گے یا نہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل طنطاوی اور جنرل عنان کو مصر کے صدر کا مشیر مقرر کیا گیا ہے اور انہیں ملک کا سب سے بڑا سرکاری اعزاز ’گرینڈ کالر آف نیل‘ بھی دیا جا رہا ہے۔

فیلڈ مارشل طنطاوی سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر کے عبوری حکمران بنے تھے اور انہوں نے جون کے اواخر میں محمد مرسی کو اقتدار سونپا تھا۔

محمد مرسی کے صدر بننے سے پہلے فوج کی اعلیٰ کونسل نے صدر کے کئی اختیارات ختم کر دیے تھے ان میں فوج سے متعلقہ اختیارات، ان کے سربراہان کا تقرر یا ان کے عہدے کی معیاد میں اضافہ شامل ہیں۔

فوجی کونسل نے مصر کی پارلیمان کو بھی تحلیل کردیا تھا جس میں صدر مرسی کی پارٹی کی اکثریت ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کا کہنا ہے کہ سینیئر فوجی افسران کی برخاستگی کو مصری عوام سیاستدانوں اور فوج کے مابین اقتدار کی جنگ میں ایک فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔