
مصر کے صدر محمد مرسی نے اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ مسلمان کے عقائد کے خلاف دنیا بھر میں چلائی جانے والی مہم ناقابل قبول ہے۔
مصر کے پہلے منتخب صدر کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے محمد مرسی نے کہا کہ دوہرے معیار کو ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ثقافتی اور دینی عقائدہ اور خیالات کی تکریم کی جانی چاہیے۔
امریکہ میں توہین آمیز فلم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصر آزادی رائے کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کو کسی کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو اسلاموفوبیا کے مسئلے سے نمٹنا ہوگا۔
اپنی تقریر کے دوران محمد مرسی نے فلسطین اور شام کے شہریوں کے لیے انصاف کی بات بھی کی اور خوں ریزی ختم ہونی چاہیے اور دونوں ملکوں کے عوام کو آزادی اور وقار سے جینا کا حق دیا جانا چاہیے۔
ادھر عرب لیگ کے سربراہ نیبل العربی نے عالمی برادری سے توہین مذہب کو قابل تعزیر بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مذہب کی توہین کے واقعات عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں نبیل العربی کا مطالبہ امریکہ اور مغربی دنیا کے موقف سے بالکل مختلف ہے جو آزادی رائے پر کسی قسم کی قدغن لگانے کے قطعی مخالف ہیں۔
العربی نے کہا کہ اگر مغربی ملکوں نے انسانی جسم کو مجروح کرنے پر سزائیں رکھیں ہیں تو پھر انسانوں کے ذہن اور روح کو زخمی کرنے کے اقدامات پر سزائیں ہونی چاہیں۔
امریکہ میں بننے والی متنازع فلم پر مسلمان دنیا میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے العربی نے کہا کہ اگر توہین مذہب کے قوانین نافذ نہیں کیے گئے تو اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے۔






























