
صدر کی جانب سے برطرفی کے باوجود عبد المجید محمود نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا
مصر کے صدر محمد مرسی نے ملک کے پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
صدر مرسی اور پراسیکیوٹر جنرل عبد المجید محمود کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ دارالحکومت قاہرہ میں اس معاملے پر جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ فیصلہ نائب صدر سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے صدر کی جانب سے برطرفی کے باوجود عبد المجید محمود نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ ججوں اور وکلاء کے ہمراہ دفتر گئے تھے۔
حسنی مبارک کے اقتدار میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین پر حملے کرنے والے حکام کو بری کرنے کے بعد سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔
جمعے کو ان کے حامیوں اور صدر مرسی کے حامیوں کے بیچ تہریر سکوائر میں لڑائی ہوئی جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ گذشتہ جون میں صدر مرسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ بدترین کشیدگی تھی۔
قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس مفاہمت کو صدر مرسی کے لیے شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے صدر محمد مرسی نے پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ انھوں نے یہ اقدام اس وقت اٹھایا تھا جب ایک روز قبل ہی سابق صدر حسنی مبارک کے چوبیس حامیوں کو گذشتہ برس کے انقلاب میں مظاہرین پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔
مقدمے سے بری ہونے والے افراد کے گروہ پر الزام تھا کہ انہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار افراد کو سنہ دو ہزار گیارہ میں قاہرہ میں ہونے والا مظاہرہ ختم کروانے کے لیے بھیجا۔
اس واقعے کو بعد میں اونٹوں کی جنگ کے نام سے پکارا جانے لگا۔






























