
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں خواتین کی حالت بہتر کرنے پر زور دیا ہے
برطانوی ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ ہو سکتا کہ برطانیہ کو یہ تسلیم کرنا پڑے کہ شاید اسے افغانستان میں قابل اعتبار ریاست کے قیام میں کامیابی حاصل نہ ہو سکے۔
برطانوی دارالعوام میں عالمی ترقیاتی امور سے متعلق کیمٹی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو روایتی امداد کے مقابلے میں افغانستان میں حکومتی اداروں کی تعمیر اور ترقی جیسے پہلوں پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ارکان پارلیمان نے اس سلسلے میں جو سفارشات پیش کی ہیں اس میں افغان خواتین کی زندگی کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔
ارکان پارلیمان پر مشتمل اس کمیٹی نے افغانستان میں سخت ترین غربت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تین گنا حالت خراب ہے جبکہ مردوں کے مقابلے میں وہی سب سے زیادہ ناخواندہ ہیں۔
کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ جو بھی ہو برطانیہ کو کسی بھی حالت میں افغانوں کو، خاص طور پر خواتین کو، بے سہارا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
کمیٹی کے چیئرمین سر میلکم بروس نے کہا کہ ’افغانوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے بہت سے برطانوی فوجیوں نے جان دی اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں۔‘
"یہ بات قابل سوال ہے کہ ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ قابل اعتماد ریاست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں لیکن ہم موثر ترقیاتی کام کر سکتے ہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ ’افغان اپنے ملک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور برطانیہ کو فوجیوں کے انخلاء کے بعد بھی بجٹ کے ذریعے ان کی مدد جاری رکھنی چاہیے۔‘
رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ’یہ بات قابل غور ہے کہ ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ قابل اعتماد ریاست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں لیکن ہم موثر ترقیاتی کام کر سکتے ہیں۔‘
کمیٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کی ترقی کے متعلق جو باتیں کہی گئي تھیں ان پر عمل نہیں کیا گیا ہے اور فوجیوں کے انخلاء کے بعد خواتین کی حالت سے ہی یہ انداز لگایا جائیگا کہ برطانیہ افغانوں کی حالت بہتر کر سکا ہے یا نہیں۔
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں خواتین کی حالت بہتر کرنے پر زور دیا ہے اور کہا کہ ان کی صحت، تعلیم اور بہتر زندگي کے لیے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
ادھر برطانوی حکومت نے بھی افغانستان میں بہتر مستقبل کے لیے خواتین کی حالت کو بہتر کرنے کا عزم دہرایا ہے۔






























