
ابو حمزہ پر الزام ہے کہ وہ امریکہ میں دہشت گردوں کی تربیت کے لیے کیمپ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے
برطانیہ کے ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈیکل مبلغ ابو حمزہ المصری کی دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے امریکہ کو حوالگی عارضی طور پر روک دی ہے۔
اس سے قبل ابو حمزہ نے امریکہ کے حوالے کیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
ان کی یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ان کے اور چار دیگر افراد کے خلاف مقدمات رکوانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
ان سب کا موقف ہے کہ اگر انہیں امریکہ کے حوالے کیا گیا تو ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جائے گا۔
دوسرے مشتبہ دہشت گرد خالد الفواز بھی نئی قانونی جنگ کے لیے تیار ہیں۔
عدالتی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ ابو حمزہ اور خالد الفواز امریکہ کو حوالگی کے خلاف روک کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ کس بنیاد پر یہ کر رہے تھے۔
ہائی کورٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’جج نے درخواستوں کے کاغذات پر غور کرنے کے بعد مقدمات کو کھلی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔‘
قانونی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس اپنی حوالگی کو رکوانے کے کے لیے نئے شواہد موجود ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ان کا نام مبینہ دہشت گروں کی فہرست سے نکال دیا ہے اور اب برطانوی وزیرِ داخلہ کو اپنے فیصلے پر از سرِ نو غور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
پیر کو آنے والے یورپی عدالت کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ابو حمزہ اور دیگر چار افراد کو اب امریکہ میں دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مقدمات نوے کی دہائی کے اواخر سے التوا کا شکار ہیں۔
ابو حمزہ پر الزام ہے کہ وہ امریکہ میں دہشت گردوں کا ایک تربیتی کیمپ بنانا چاہتے تھے اور وہ یمن میں مغربی افراد کے اغوا میں بھی ملوث تھے۔






























