
شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے والے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن نے شامی باشندوں اور گروپوں کی ایک خفیہ فہرست جاری کی ہے جو جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔
مبصر مشن کے سربراہ پاؤلو سرجیو پنہیرو کا کہنا ہے کہ انہوں نے تشویشناک اور غیر معمولی شواہد اکھٹے کیے ہیں۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہےکہ وہ شام کے معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف میں بھیجیں۔
اسی اثناء میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا ہے کہ کہ مسلح باغی قیدیوں پر تشدد کر رہے ہیں اور انہیں اجتماعی سزائے موت دے رہے ہیں۔
تاہم تنظیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومتی فورسز کی جانب سے کیا جانے والا تشدد زیادہ وسیع ہے۔
شام میں تشدد پھیلنے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کا ایک خود مختار کمیشن گزشتہ برس قائم کیا گیا تھا۔
اگست میں کمیشن نے رپورٹ دی تھی کہ شام میں منظم طریقے سے تشدد کیاجا رہا ہے۔ شام میں حکومت نے قتل، زدو کوب، جنسی تشدد جیسے اقدامات کی اعلی ترین سطح سے اس کی اجازت دی رکھی ہے۔
کمیشن کے مطابق حزبِ اختلاف کی فورسز بھی جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہیں۔ تاہم ان کی جرائم کی پیمانہ اور شدت اتنی نہیں جتنی کے حکومتی فورسز کی ہے۔
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مئی میں حولہ شہر میں ایک سو آٹھ افراد کی قتلِ عام میں حکومتی فورسز اور حکومت کی حامی ملیشیا شامل تھیں۔






























