
شام کے شہر حلب میں بمباری
شام کے حکومت مخالف کارکنوں نے کہا ہے کہ سرکاری فوج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب پر بمباری کی ہے، جس سے کم از کم انیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
فوج نے بستان القصر، مارجہ اور ہنانو نامی علاقوں پر علی الصباح بم باری شروع کی۔ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں کئی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
حکومت مخالف کچھ ذرائع نے بدھ کی صبح ہونے والے اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد چون تک بتائی ہے۔
حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق بدھ کی صبح حلب کے تیرہ سے زیادہ علاقے بھاری گولہ باری کی زد میں آئے۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی ایک شامی تنظیم نے کہا ہے کہ بستان القصر میں دس شہری مارے گئے ہیں جب کہ مارجہ اور ہنانو کے علاقوں میں سے دس لاشیں ملی ہیں جن میں بچوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔
ایک حکومت مخالف نیٹ ورک ایل سی سی نے اطلاع دی ہے کہ مارجہ پر گولہ باری میں کم از کم پندرہ لوگ مارے گئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے دس افراد بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ جنوبی علاقے باب نیراب میں بھی سات بچے اور تین خواتین کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
ایل سی سی نے بدھ کو ملک بھر میں لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد پچھتر بتائی ہے۔ ان میں سے چون افراد حلب میں ہلاک ہوئے۔ تنظیم کے مطابق منگل کے دن ملک بھر میں کم از کم ایک سو پینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ادھر بدھ کی صبح دمشق کےعلاقے جوبر میں نو نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ حکومت مخالف کارکنوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو شائع کی ہے، اور کہا ہے کہ ان افراد کو حکومت کی حامی مسلح تنظیم کے ارکان نے ہلاک کیا ہے۔
اس سے ایک ہی روز پہلے شام کے لیے امریکہ کے نئے ایلچی نے اس تنازعے میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کو ’لرزہ خیز‘ اور تباہی کو’قیامت خیز‘ قرار دیا تھا۔
اخضر ابراہیمی نے اقوامِ متحدہ سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ اگلے ہفتے شام کا دورہ کریں گے۔






























