
’شامی عوام کو عالمی حمایت کی اس وقت بےانتہا ضرورت ہے‘
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے نئے ایلچی اخضر ابراہیمی کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تصادم حیرت انگیز اور تباہی شدید ہے۔
یہ بات انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہی۔
ابراہیمی نے اپنی تقریر میں شام کے بحران کے حل کے لیے متحد ہونے کی استدعا کی۔انہوں نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے شام کا دورہ کریں گے اور ان کو اقوام متحدہ کی حمایت درکار ہے۔
شام کے اقوام متحدہ میں سفارتکار نے کہا کہ وہ اخضر ابراھیمی کے مشن کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔
جنرل اسمبلی میں مختصر خطاب میں ابراہیمی نے کہا کہ شام میں صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کو درپیش مسائل بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام کا مستقبل صرف شامی عوام ہی بنائے گی اور کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا شامی عوام کو عالمی حمایت کی اس وقت بےانتہا ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کہ سربراہ پیٹر مورر نے شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات مثبت رہی۔
آئی سی آر سی کے سربراہ نے شام کے صدر سے درخواست کی کہ امدادی کارکنوں کو مسلح تصادم والے علاقوں تک زیادہ رسائی دی جائے۔
شام کے ریاستی ٹی وی چینل کے مطابق صدر بشار الاسد نے ریڈ کراس کے کام کی حمایت کی اور کہا کہ اس کے کارکن غیر جانبدار رہیں۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین نے کہا کہ شام کے پناہ گزین کی تعداد بڑھ کر دو لاکھ پینتیس ہزار ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق اگست میں لڑائی میں شدت کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے ملک چھوڑا۔






























