’شامی افواج کو جیتنے کے لیے وقت چاہیے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 13:28 GMT 18:28 PST

صدر بشار الاسد نے شام کے اندر ایک بفر زون بنانے کے خیال کو بھی غیر حقیقی کہ کر مسترد کیا۔

شام کے صدر بشار الاسد نے حکومت کے حامی الدنیا ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کو باغیوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

صدر بشارالاسد نے کہا کہ ’شامی حکومت یہ جنگ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر لڑ رہی ہے‘۔ انہوں نے شام کے اندر ایک بفرزون بنانے کے خیال کو غیرحقیقی کہہ کر مسترد کیا۔

دوسری طرف دارالحکومت دمشق، حلب اور شمال مغربی صوبے ادلب سے بھاری گولہ باری کی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام کو ’یقینی طور پر وقت درکار ہے اس جنگ کو ایک فیصلہ کن نتیجے پر ختم کرنے کے لیے۔ لیکن میں اس کو ایک جملے میں اس طرح بیان کروں گا کہ ہم اس میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔ میدان میں حالات بہتر اب بہتر ہیں لیکن اختتام ابھی نہیں ہوا ہے اس میں کچھ وقت لگے گا۔ اور ہماری افواج بہت اچھا کام کرہی ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر ایک اپنے ملک کے لیے پریشان ہے لیکن (باغی) کبھی بھی خوف نہیں پھیلا پائیں گے۔ میں شامی عوام سے کہتا ہو کہ تقدیر آپ کے ہاتھ میں ہے نہ کہ دوسروں کے ہاتھ میں‘۔

صدر بشار الاسد نے ان اعلیٰ حکام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا جنہوں نے حالیہ دنوں میں شامی حکومت سے انحراف کیا کہ ’ان حکام کا جانا سب سے پہلے حکومت اور عمومی طور پر ملک کی اپنی چھانٹی ہے‘۔

دمشق میں جولائی میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے بعد بشار الاسد کے بارے میں افواہوں نے جنم لینا شروع کیا تھا کہ شاید وہ ملک میں ہیں یا کہیں منتقل ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے میں بشار الاسد کے برادر نسبتی سمیت کئی اعلی حکام ہلاک ہو گئے تھے۔

"کیا ہم کچھ ترک اہلکاروں کی لاعلمی کی وجہ سے ترکی سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں یا پھر تر عوام سے اپنے تعلقات پر توجہ دین جو بحران کے دوران ہمارے ساتھ کھڑے رہے اور میڈیا اور دوسرے پراپگینڈہ کی وجہ سے بھی نہیں ہٹے۔"

شام کے صدر بشار الاسد

اس انٹرویو میں صدر بشار الاسد نے ان افواہوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ انٹرویو صدارتی محل میں لیا جا رہا ہے۔

شامی صدر نے ترکی کے وزیر خارجہ احمد دیوتوگلو کی جانب سے شام کے اندر مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے اور امداد کی تقسیم کے لیے ایک بفرزون بنانے کی تجویز پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا ’بفر زونز کی بات بالکل نہیں ہو رہی اور دوسری طرف یہ شام کے دشمن اور مخالف ملکوں کی جانب سے ایک غیر حقیقی تجویز ہے۔

ترکی نے کہا ہے کہ شامی مہاجرین کے لیے اضافی مہاجر کیمپ اگلے ہفتے سے تیار ہوں گے لیکن اس مقصد کے لیے جگہ بہت جلدی محدود ہو رہی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ فیبیس لروں نے بدھ کے روز یہ تسلیم کیا کہ نو فلائی زون کے ساتھ زمینی افواج اتارے بغیر بفر زون بنانا ناممکن ہوگا۔

فیبیس لروں نے فرانس کے انٹر ریڈیو سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم اس بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ ہم یہ ترکی اور دوسرے ممالک کی رضامندی کے بغیر نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کے معاملات آگے بڑھیں اور بشار کے اقتدار کا خاتمہ جلد از جلد ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کا انسانی حل بھی تلاش لیا جائے‘۔

"ہم اس بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ ہم یہ ترکی اور دوسرے ممالک کی رضامندی کے بغیر نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کے معاملات آگے بڑھیں اور بشار کے اقتدار کا خاتمہ جلد از جلد ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کا انسانی حل بھی تلاش لیا جائے۔"

فرانس کے وزیر خارجہ فیبیس لروں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے منگل کو تنبیہ کی کہ دو لاکھ افراد لڑائی سے بچنے کے لیے ترکی فرار ہو سکتے ہیں جو کہ ترکی کی متفقہ حد سے دوگنا ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق روزانہ پانچ ہزار افراد ترکی کی سرحد پر آ رہے جو کے پچلے ماہ کے پانچ سو روزانہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ پہلے ہی ترکی میں چوہتر ہزار شامی مہاجرین موجود ہیں جبکہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار دوسرے ممالک میں ہیں۔

بعض اندازوں کے مطابق شام میں بارہ لاکھ اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد ہیں اور پچیس لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>