’صدر الاسد کے استعفے پر غور کیا جا سکتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 اگست 2012 ,‭ 03:12 GMT 08:12 PST

قادری جمیل کو نائب وزیرِ اعظم کا عہدہ گزشتہ جون میں دیا گیا تھا

شام کے نائب وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ شام میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے حکومت صدر بشارالاسد کے استعفیٰ کو غیر مشروط مذاکرات میں زیرِ بحث لانے کو تیار ہے تاہم ان کے استعفے کو مذاکرات شروع کرنے کے لیے شرط رکھنا ناقابلِ منظور ہے۔

نائب وزیرِ اعظم قادری جمیل نے یہ بات روسی دارالحکومت ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس میں کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مغرنی ممالک شام میں عسکری مداخلت کے لیے جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں عسکری مداخلت ہرگز نہیں ہونی چاہیئے۔

قادری جمیل کو نائب وزیرِ اعظم کا عہدہ گزشتہ جون میں دیا گیا تھا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے اس بیان کے جواب میں کہا کہ انہیں قادری جمیل کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں نظر آئی۔

یہ بیان اس وقت آیا ہے جب امریکی صدر باراک اوباما نے شامی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تو امریکہ عسکری مداخلت کر سکتا ہے۔ پیر کے روز صدر اوباما نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ کے لیے آخری حد ہوگی۔

اس سے پہلے روسی وزیر خارجہ سرگے لاورو نے چینی سفارتکار اور قادری جمیل سمیت شامی وفد سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت صرف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل دے سکتی ہے۔ انہوں نے بم باری کے ذریعے جمہوریت کے قیام کے خلاف بھی تنبیہ کی۔

قادری جمیل نے خبردار کیا کہ شام میں براہِ راست عسکری مداخلت نا ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ایسا کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں وہ ایک ایسی جنگ مسلط کریں گے جو کہ شامی سرحدوں سے باہر تک جائے گی۔

ماضی میں شامی حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس بار قادری جمیل نے صاف الفاظ میں بتایا کہ صدر الاسد کے استعفے پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگے لاورو نے چینی سفارتکار اور قادری جمیل سمیت شامی وفد سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت صرف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل دے سکتی ہے

ادھر ماسکو میں جاری بات چیت کے دوران شامی باغیوں کے مطابق دمشق کے مضافات میں تازہ ترین جھڑپوں میں بیس نوجوان ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز کے عمارتیں خالی کرنے کے بعد کئی مردوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں جنہیں قریب سے گولیاں ماری گئی ہیں۔

حزبِ مخالف کے مطابق شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں فضائیہ کے حملوں میں ایک درجن سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

فری سریئن آرمی کے ایک کمانڈر کرنل عبد الجبار العقیدی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ حلب کا ساٹھ فیصد حصہ ان کے قبضے میں ہے تاہم حکومتی ذرائع ان دعوں کی تردید کرتے ہیں۔

سترہ ماہ سے جاری کشیدگی میں اقوام متحدہ کے مطابق اب تک اٹھارہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز عالمی رہنمائوں اور امدادی تنظیموں نے سکیورٹی کونسل کو شامی حکومت کے ساتھ امدادی کارروائیوں کے لیے رسائی فراہم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کو کہا۔

سیو دی چلڈرن اور نورویجیئن ریفیوجی کونسل سمیت دیگر امدادی تنظیموں نے ایک خط میں کہا کہ ہزاروں لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے تاہم وہ اقوام متحدہ میں سیاسی مسائل کی وجہ سے یلغمار بنے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>