
ابو رمانہ ضلع کے علاقے مہدی میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق درالحکومت دمشق کے ایک علاقے میں دو دھماکے ہوئے ہے جہاں بہت ساری فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنصیبات واقع ہیں۔
یہ دھماکے ابو رمانہ ضلع کے علاقے مہدی میں ہوئے۔
شامی سرکاری ٹی وی نے ان دھماکوں کے نتیجے میں چار افراد کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔
ان دھماکوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والی عمارت میں جوائینٹ چیف آف سٹاف کے دفاتر کی حفاظت پر مامور فوجی رہتے ہیں لیکن دھماکوں کے وقت عمارت خالی تھی۔
سرکاری ٹی وی نے دھماکوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والی گاڑیاں دکھائیں جبکہ باغیوں کی جانب سے ریکارڈ کی جانے والی ویڈیو میں علاقے سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
جولائی سے حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان دمشق کے مختلف علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔
اس سے پہلے سرکاری میڈیا نے خبر دی کے دمشق کے جنوبی مضافات میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے۔
اس دھماکے کے نتیجے میں اردگرد کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
جہاں یہ دھماکہ ہوا اس کے قریب ہی ایک فلسطینی مہاجرین کی خیمہ بستی ہے اور اس علاقے میں حکومت مخالف جذبات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔
یہ دھماکے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی نمائندے لخدار براہیمی کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے ایک دن بعد ہوئے ہیں۔
شام میں جاری لڑائی میں دمشق اور حلب پر باغیوں کی جانب سے حملے اور ان شہروں میں دھماکے اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
دمشق میں اسی طرح کے ایک دھماکے میں کئی اعلیٰ شامی عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے جن میں وزیر دفاع اور صدر بشار الاسد کے برادر نسبتی بھی شامل تھے۔






























