
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے
ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ممنکہ طور پر عالمی ایٹمی تونائی کی نگراں ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ’دہشتگرد‘ گھس گئے ہیں۔
فریدون عباسی دوانی کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کے دورے سے قبل ہی یورینیم کی افزودگی کرنے والے ایک سنٹر کی دھماکوں کے ذریعے بجلی کی رسد منقطع کر دی گئی تھی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پر بد انتظامی اور چند ممالک کے زیرِ اثر ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔
جمعرات کو یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کے بعد آئی اے ای اے نے ایران پر شدید تنقید کی تھی۔
آئی اے ای اے کے بورڈ نے اس انکار کے بعد ایک قرارداد کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات ظاہر کیے۔
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جبکہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔
اتوار کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتنیاہو کا کہنا تھا کہ چھ سے سات ماہ میں ایران کے پاس جوہری بم بنانے کے لیے نوے فیصد صلاحیت آ جائے گی۔
امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو روکنے کے لیے صرف ایک حل یہ ہے کہ امریکہ اس کی جوہری کارروائی پر ایک مخصوص سطح کا تعین کرئے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں عسکری مداخلت کی جائے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرئے گا۔
پیر کو ویانا میں آئی اے ای اے کی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے فریدون عباسی دوانی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ملک نے ہمیشہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بنانے یا استعمال کی مخالفت کی ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سترہ اگست کو فوردو کے زیرِ زمین یورینیم کی افزودگی کے مرکز کو قم کے شہر سے جانے والی بجلی کی رسد دھماکوں کے ذریعے معطل کر دی گئی تھی اور اگلے روز ہی آئی اے ای اے نے غیر اعلانیہ معائنے کی درخواست کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ’اتنے قلیل وقت میں آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کے علاوہ کس کو اس مرکز تک رسائی مل سکتی ہے؟‘
انہوں نے کہا ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔






























