
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے
جوہری امور کے لیے اقوام متحدہ کے نگراں ادارے آئی اے ای اے نے ایک قرارداد کے ذریعے ایران پر شدید تنقید کی ہے۔
آئی اے ای اے کے بورڈ نے ایران کے یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جبکہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔
پینتیس میں سے اکتیس ممالک نے ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جبکہ ایک نے مخالفت اور تین نے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔
وسطی امریکہ کے ملک کیوبا نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ مصر، ایکواڈور اور تیونس نے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ چاروں ممالک نان آلائنڈ مؤومنٹ (غیر وابستہ ممالک کی تنظیم) کا حصہ ہیں جس کی صدارت اس وقت ایران کے پاس ہے۔
اسی تحریک کے ایک اور رکن ملک جنوبی افریقہ نے قرارداد کے مسودے میں ایک ترمیم کی تجویز کی جس میں چند الفاظ کو بدلا گیا تاہم اس ترمیم کی وجہ سے قرارداد کی منظوری میں کئی گھنٹوں کی تاخیر ہوئی۔
ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کل چھ قراردادوں کی منظوری دے چکی ہے جن میں سے چار کے ساتھ پابندیاں منسلک ہیں۔
.حالیہ قرارداد امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے تجویز کی تھی۔
ویانا سے بی بی سی کی بیتھنی بیل کا کہنا تھا کہ یہ اقدام دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کی جانب سے اظہارِ یکجحتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قرارداد سے ایران پر دباؤ بھی بڑھے گا جبکہ اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کے خلاف عسکری آپریشن کرنے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کی تیل کی برآمدات کے خلاف بھی یکطرفہ پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اضافی اقدامات لینے کا سوچ رہے تھے۔
جمعرات کو دیے گئے ایک بیان میں ستائیس ممالک کی اس تنظیم نے اس معاملے میں ایران کی سست روی کو نا قابلِ منظور کہا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی سے شرکت نہیں کی ہے۔ آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان اس سال کے آغاز سے مذاکرات جاری ہیں۔






























