
مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ شام میں بغاوت ’ایک جارح حکومت کے خلاف انقلاب‘ ہے اور ان ریمارکس پر شامی وفد نے تہران میں جاری سربراہی اجلاس سے واک آؤٹ کیا ہے۔
محمد مرسی نے یہ بات تہران میں جاری غیروابستہ ممالک کی تحریک کے سربراہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ وہ سنہ انیس سو اناسی میں انقلاب کے بعد سے ایران کا دورہ کرنے والے پہلے مصری صدر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر وابستہ ممالک کی تحریک کو شام میں حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے۔
مصری صدر کے ان ریمارکس پر اجلاس میں شریک شامی وفد نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ شام کے وزیرِ خارجہ ولید معلم کا کہنا ہے کہ محمد مرسی کی تقریر ’شام میں جاری خونریزی کو ہوا دینے کی کوشش ہے‘۔
محمد مرسی نے اجلاس میں شریک ایک سو بیس ممالک کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’شام میں ایک جارح حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے شامی عوام سے اظہارِ یکجہتی ہماری اخلاقی ذمہ داری اور سیاسی اور سٹریٹیجک ضرورت ہے‘۔
انہوں نے شام میں حکومت مخالف تحریک کا تقابل فلسطین سے کیا اور کہا دونوں کے عوام ’ آزادی، وقار اور انصاف‘ کے متلاشی ہیں اور مصر خونریزی روکنے کے لیے سب کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ ولید معلم نے اس تقریر کو ’شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جاری خونریزی کو ہوا دینے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ اجلاس سے شامی وفد کا واک آؤٹ ان بڑی خلیجوں کو ظاہر کرتا ہے جن کی وجہ سے یہ اجلاس ناکام بھی ہو سکتا ہے۔

شام کو ایک طویل المدت خانہ جنگی کا سامنا ہے: بان کی مون
تجزیہ کاروں کے خیال میں مصری صدر کے خیالات نے نہ صرف شامی حکومت بلکہ ایران کو بھی مشتعل کیا ہے جو کہ شام کے صدر بشار الاسد کا حامی ہے۔
شام کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اس اجلاس میں شریک اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کو ایک طویل المدت خانہ جنگی کا سامنا ہے اور جو بھی فریقین میں سے کسی کو ہتھیار فراہم کرے گا وہ صرف شامیوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے سربراہی اجلاس میں شرکت کے اعلان سے واشنگٹن خوش نہیں ہے۔ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
تہران میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ ایران اس اجلاس کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام کے خلاف اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مغربی کوشش کا مقابلہ کرے گا۔






























