
ورلڈ آف وار کرافت آن لائن گیم ہے جسے کھیلنے کے لیے پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں
امریکہ کی جانب سے ایران پر تجارتی پابندیوں کے باعث گیمز بنانے والی کمپنی بلیزرڈ نے آن لائن ویڈیو گیم ورلڈ آف وار کرافٹ تک ایران میں اپنے صارفین کی رسائی ختم کر دی ہے۔
کئی ایرانی صارفین کی جانب سے اس شکایت کے بعد کہ ان کی گیم تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی بلیزرڈ نے اپنی فورم سائٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے طریقہ کار میں سختی کی گئی ہے جس کے باعث رسائی حال ہی میں ختم کی گئی ہے۔‘
یہ مسئلہ گذشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا جب ایران میں کئی صارفین نے بلیزرڈ کے یورپی فورم battle.net پر یہ شکایت کی کہ وہ گیم تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔
اس فورم پر پیغام بھیجنے والے کئی افراد کا کہنا تھا کہ وہ ورلڈ آف وار کرافت کے سرور کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم نہیں کر پا رہے لیکن ایران کے باہر پراکسی سرور کو استعمال کرنے سے یہ رابطہ ممکن ہو رہا ہے۔
بڑی تعداد میں شکایات موصول ہونے کے باعث بلیزرڈ نے ایک کلِک بیان جاری کیا جس میں وضاحت کی گئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کے باعث وہ بعض ملکوں میں رہنے والے افراد کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے، جن میں سے ایک ایران ہے۔
"ہم اس تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں اور جیسے ہی امریکہ کا قانون اجازت دے گا تو ان پابندیوں کو باخوشی ہٹا لیا جائے گا۔"
بلیزرڈ
بلیزرڈ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان پابندیوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو پیسے واپس نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا اکاؤنٹ کہیں اور منتقل کر سکتے ہیں۔
’ہم اس تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں اور جیسے ہی امریکہ کا قانون اجازت دے گا تو ان پابندیوں کو باخوشی ہٹا لیا جائے گا۔‘
ورلڈ آف وار کرافٹ پر بلیزرڈ کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے لیکن دیگر اطلاعات کے مطابق ہوسکتا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس سے وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئی ہوں۔
ورلڈ آف وار کرافٹ اور دیگر گیمز جیسا کہ گِلڈ وارز کے صارفین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے گیم کھیلنے کے لیے لاگ اِن کرنے کی کوشش کی تو انہیں ایک دوسرے صفحے کی جانب بھیج دیا گیا جس پر یہ پیغام تھا کہ یہ گیمز ’توہم پرستی اور مخصوص روایات‘ کو فروغ دیتی ہیں جس کے باعث کنیکشن بلاک کر دیا گیا ہے۔
بلیزرڈ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے آن لائن گیمز کے خلاف اقدامات سے متعلق ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔






























