برطانوی بینک پر ایران کی مدد کا الزام

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

برطانوی بینک سٹینڈرڈ چارٹرڈ پر ایران کے ساتھ اربوں ڈالر کے غیرقانونی لین دین کے الزامات کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹوں میں بینک کے حصص کی قیمتوں میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

امریکہ میں بینکاری کے نگران ادارے نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ ڈھائی سو ارب ڈالرز کے غیر قانونی لین دین کو پوشیدہ رکھا ہے۔

برطانوی بینک نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے تاہم اس کے باوجود منگل کو کاروبار کے آغاز پر ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج میں بینک کے حصص کی قیمتوں میں سولہ اور لندن سٹاک ایکسچینج میں پچیس فیصد کمی ہوئی۔

ریاست نیو یارک کے حکام نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کو ’بدمعاش ادارہ‘ قرار دیا ہے جس نے گزشتہ سالوں کے دوران اپنے جھوٹے ریکارڈز مرتب کیے تاکہ ایران کو منی لانڈرنگ یعنی غیر قانونی طریقے سے حاصل شدہ رقوم یا آمدن کی بیرون ملک منتقلی کی روک تھام کےامریکی قوانین سے بچنے میں مدد ملے۔

امریکہ کی جانب سے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے خلاف یہ الزامات امریکی سینیٹر کی جانب سے ایک اور برطانوی بینک ایچ ایس بی سی پر نا جائز رقوم یا آمدن کے بیرون ملک منتقلی کے روک تھام میں ناکامی کے الزامات کے ایک ہفتے بعد سامنے آئے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے شعبہء معاشیات کا کہنا ہے کہ ایران کے اُن اقتصادی اداروں کے ساٹھ ہزار مالی معاملات کو پوشیدہ رکھا گیا جن پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عملدرآمد کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں جبکہ بینک کو دھمکی دی گئی ہے کہ امریکہ میں اس کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

بینک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بینکاری کے نگراں ادارے کے سامنے پیش ہو کر سنہ دو ہزار ایک سے دو ہزار دس کے دوران ’قانون کی خلاف ورزی‘ کی وضاحت پیش کرے۔

بینکاری کے نگراں ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بینک پر جرمانے کے لیے ایک باقاعدہ سماعت بھی کرے گا۔

ادارے کا کہنا تھا کہ اسے لیبیا، برما اور سوڈان کے بارے میں ایسے ہی تجارتی معاملات کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ نو ماہ تک جاری رہنے والے تحقیقات کے دوران سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی اندرونی ای میلز سمیت تیس ہزار سے زائد دستاویزات کا جائزہ لیا گیا جن سے معلوم ہوا کہ بینک نے فیسوں کی مد میں کروڑوں ڈالر کمائے۔

ادارے کے بقول ’ایس سی بی کی اقدمات کی وجہ سے امریکی اقتصادی نظام دہشت گردوں ، اسلحے کے تاجروں، منشیات فروشوں اور بعنوان حکومتوں کے سامنے لاچار ہو دیا۔ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان مقلومات تک پہنچنے سے روک دیا جن کی مدد سے ہر طرح کے جرائم کا پتہ چلایا جا سکتا تھا‘۔