
ایران کے مطابق قم کے جوہری مرکز فرود میں سویلین استعمال کے لیے یورینیم کی بیس فیصد تک افزودگی کی جا رہی ہے
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران نے قم شہر کے مضافات میں واقع جوہری مرکز فردو میں پیداواری صلاحتیوں میں دوگنا اضافہ کر لیا ہے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی یا آئی اے ای نے سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران نے پارچین کے فوجی مرکز کے معائنے کے اختیار کو’ قابل ذکر حد تک متاثر‘ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے سال دو ہزار دس سے اب تک 189 کلوگرام اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم تیار کی ہے۔
ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کر سکتا ہے۔
ایران کے مطابق قم کے جوہری مرکز فرود میں سویلین استعمال کے لیے یورینیم کی بیس فیصد تک افزودگی کی جا رہی ہے۔
آئی اے ای کے مطابق فرود کے جوہری مرکز کے زیرِ زمین بنکر میں یورینیم کی افزودگی کے لیے درکار آلات’سنٹری فیوج ‘ کی تعداد جو مئی میں ایک ہزار چونسٹھ تھی اب یہ بڑھ کر اکیس سو چالیس ہو گئی ہے۔
ادارے کے مطابق نئے نصب کردہ سنٹری فیوج نے ابھی کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔
اس سے پہلے رواں سال مئی میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران اس مرکز میں خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔
ادارے کے مطابق اس کے معائنہ کاروں کو مرکز سے یورینیم کی ستائیس فیصد افزودگی کے نمونے ملے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم کی ستائیس فیصد افزودگی کی صورت میں ایران جوہری ہتھیار کے لیے درکار یورینیم تیار کرنے کے قریب پہنچ جائےگا۔
جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پارچین کے فوجی مرکز کو حساس قرار دے دیا گیا ہے اور وہاں پر ایران کی جاری سرگرمیوں سے اس کے معائنہ کاروں کو موثر جائزے میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ آئی اے ای کی رپورٹ کا قریبی جائزہ لے رہا ہے۔
امریکہ نے خبردار کیا کہ ایران کے جوہری ارادوں پر تنازع کے سفارتی حل کا وقت گزر سکتا ہے۔






























