
ابو شجور نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں میں گزارا ہے
لیبیاء میں قومی اسمبلی کے ارکان نے نائب وزیر اعظم مصطفیٰ ابو شاقور کو ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کر لیا ہے۔
انہوں نے اپنے مدمقابل امیدوار محمد جبرائیل کو شکست دی۔ سابق صدر کرنل معمر قذافی کی برطرفی کے بعد سے محمد جبرائیل ملک کے عارضی وزیراعظم تھے۔
مصطفی شاقور جانے مانے انجینیئر ہیں جو کرنل معمر قذافی کے بہت پرانے مخالفین میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی اٹھارہ ماہ کی معیاد میں سکیورٹی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں گے۔
محمد جبرائیل نے پہلے دور میں آسانی سے پچپن کے مقابلے اٹھاسی ووٹ حاصل کر کے جیت حاصل کرلی تھی۔ لیکن مقابلے میں شاقور کو چھیانوے ووٹ ملے جب کہ جبرائیل کو ان سے بہت کم ووٹ حاصل ہوئے۔
مصطفی شاقور کی جیت میں اخوان المسلمین اور جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے نمائندوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
یہ انتخابات شہر بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے دوسرے روز ہوئے ہیں۔ اس واقعے میں امریکی سفیر سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
مصطفیٰ شاقور نے امریکہ جانے سے پہلے طرابلس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ امریکہ میں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور بطور استاد اور آپٹیکل انجینیئر کے کام کیا۔
دو ہزار گیارہ میں وہ اس وقت امریکہ سے واپس آئے جب اپوزیشن کی طرف سے کرنل معمر قذافی کے اقتدار کے خلاف جد و جہد جاری تھی اور وہ ’نیشنل ٹرانزیشنل کونسل‘ کے مشیر مقرر ہوئے۔
گذشتہ نومبر میں وہ اس وقت کے وزیراعظم عبدالرحیم الکعب کے نائب مقرر کیے گئے تھے۔ دو سو ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی کا پہلی بار آزادانہ انتخاب گزشتہ جولائی میں ہوا تھا۔
لیبیا میں کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں روشن خیال گروپ نیشنل فورسز الائنس اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔
لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی سنہ انیس سو انہتر میں اقتدار آئے تھے اور انہوں نے تقربیاً چالیس برس تک لیبیا پر حکومت کی۔ گذشتہ برس کئی ماہ کی خانہ جنگی کے بعد انہیں مخالفین نے لڑائی کے دوران گرفتار کرکے قتل کردیا تھا۔






























