شام: ’کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قبول نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 04:06 GMT 09:06 PST

تینوں ممالک نے شام کی حزب مخالف جماعتوں کے ساتھ مزید تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے

برطانیہ اور امریکہ نے شام کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں دونوں ممالک شام کے مسئلے پر اپنے لائحہ عمل پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

برطانیہ کی جانب سے یہ تنبیہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی۔

دریں اثنا برطانوی وزیرِ اعظم نے فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے بھی فون پر شام کے مسئلے پر بات کی۔

تینوں ممالک نے شام کی حزب مخالف جماعتوں کے ساتھ مزید تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی امریکی صدر براک اوباما اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں شام کی بگڑتی ہوئی صورت حال نماں رہی۔

ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ تینوں رہنماؤں نے شام میں حزب مخالف کی حمایت کو مزید بہتر بنانے کے علاوہ شامی پناہ گزینوں کی حالت پر بھی غور کیا۔

ترجمان کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم نے شام کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے۔

اس سے پہلے چین کے سرکاری میڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ امریکی صدر باراک اوباما شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے شام میں فوجی مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنوا کا یہ بیان صدر اوباما کے اُس بیان کے جواب میں آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر شام نے حزبِ اختلاف کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو یہ حد پار کرنے کے مترادف ہو گا۔

شنوا کے بیان میں کہا گیا کہ مغربی طاقتیں ایک مرتبہ پھر شام میں فوجی مداخلت کا بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

چین اور روس شام پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی نہ صرف مخالفت بلکہ انہیں روکتے رہے ہیں۔

دوسری جانب شام کے شمالی شہر حلب اور دارالکومت دمشق میں حکومتی افواج اور باغیوں میں لڑائی جاری ہے جس میں شہریوں کے مطابق شام فوج کی جانب سے شدید حملے کیے گئے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق دارالحکومت دمشق میں ہونے والی لڑائی میں کم سے کم سینتیس افراد ہلاک ہو گئے۔

کارکنوں کے مطابق شام کے صوبے حما میں ہیلی کاپٹر کی بمباری سے تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ شام کے دیگر حصوں سے شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف گزشتہ برس شروع ہونے والی تحریک کے دوران اب تک بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>