
چین اور روس شام پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی نہ صرف مخالفت بلکہ انہیں روکتے رہے ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے شام میں فوجی مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنوا کا یہ بیان صدر اوباما کے اُس بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر شام نے حزبِ اختلاف کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو یہ حد پار کرنے کے مترادف ہو گا۔
شنوا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی طاقتیں ایک مرتبہ پھر شام میں فوجی مداخلت کا بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق حکومت کے خلاف گزشتہ برس سے جاری تحریک کے دوران بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
چین اور روس شام پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی نہ صرف مخالفت بلکہ انہیں روکتے رہے ہیں۔
اِس سے پہلے شام کے نائب وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ شام میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے حکومت صدر بشارالاسد کے استعفیٰ کو غیر مشروط مذاکرات میں زیرِ بحث لانے کو تیار ہے تاہم ان کے استعفے کو مذاکرات شروع کرنے سے مشروط کرنا ناقابلِ منظور ہے۔
نائب وزیرِ اعظم قادری جمیل نے یہ بات روسی دارالحکومت ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس میں کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک شام میں عسکری مداخلت کے لیے جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔
روسی وزیرِ خارجہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں عسکری مداخلت ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔
قادری جمیل کو نائب وزیرِ اعظم کا عہدہ گزشتہ جون میں دیا گیا تھا۔
امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے اس بیان کے جواب میں کہا ہے کہ انہیں قادری جمیل کے بیان میں کوئی نئی بات نہیں نظر آئی۔
شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مطابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف گزشتہ برس شروع ہونے والی تحریک کے دوران اب تک بیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






























