
طرابلس لبنان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اس میں سنی اور علوی فرقوں کے درمیان پہلے ہی کافی تناؤ ہے
شمالی لبنان میں سنیوں اور علوی فرقے کے درمیان لڑائی میں بارہ افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنان میں سنیوں اور علویوں کے درمیان تنازع کی وجہ پڑوسی ملک شام کی صورتحال ہے۔ سنی شامی حزبِ اختلاف جبکہ علوی شام کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔
شمالی شہر تریپولی میں سنیوں اور علویوں کے درمیان مسلح جھڑپیں گزشتہ رات سے جاری ہیں۔ شام کے صدر بشارالاسد مسلمانوں کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ اُن سے محاز آرا حزبِ اختلاف میں اکثریت سنیوں کی ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نجیب مکاتی نے فریقین سے اِس ’بے مقصد‘ لڑائی کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
لبنان میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ نے کہا ہے کہ لبنان میں سنیوں اور علویوں کے درمیان مستقل تناؤ اب اور بڑھ گیا ہے۔
لبنان کے شہر طرابلس میں گزشتہ دو دن سے سڑکوں پر لڑائی لڑی جا رہی ہے۔
شام کے صدر بشار السد کو بھی جو کہ خود علوی ہیں، ملک میں حزبِ مخالف کے سنی جنگجوؤں کا سامنا ہے۔
دونوں گروہوں کے درمیان پرانی عداوت نے شام کے حالات کی وجہ سے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔
لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے جو کہ خود سنی ہیں، دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ طرابلس میں لڑی جانے والی اس ’بے مقصد‘ جنگ کو ختم کریں۔ طرابلس کی آباد دو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور لبنان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
انہوں نے طرابلس کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کی جنگ کے لیے اسلحہ نہ بننے دیں۔






























