
ایران کی کئی جوہری تنصیابات میں کام زوروں پر ہے
جرمنی میں چار افراد کو غیر قانونی طور پر ایسے پرزے ایران کو فراہم کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گيا ہے جو جوہری ریکٹر کی تعمیر میں کام آتے ہیں۔
ان مشتبہ افراد کو ہمبرگ، اولڈین برگ اور ویمار میں ان کے گھروں اور تجارتی جگہوں کی تلاشی کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔
حراست میں لیےگئے افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کو لاکھوں ڈالر کی ٹیکنالوجی مہیا کرنے کے لیے ترکی اور آذربائیجان میں قائم اپنی کمپنیوں کا سہارا لیا۔
جرمنی میں ایران کے ساتھ جوہری امور سے متعلق کسی بھی طرح کی تجارت پر پابندی عائد ہے۔
بیشتر مغربی ممالک کو ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
جرمنی میں حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیےگئے افراد میں سے ایک شخص جرمن شہری جبکہ باقی تین ایران اور جرمنی کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ افراد وہ مخصوص والز مہیا کر رہے تھے جو ری ایکٹرز میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
ان افراد پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں ہتھیاروں پر پابندی کی خلاف ورزی اور فوج کے مقاصد کے لیے ممنوعہ برآمدای کی خلاف ورزی شامل ہیں۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان افراد کے نام روڈلف ایم، کیانزاد کا، غلام علی اور حامد کے ایچ، ہیں اور انہیں علم تھا کہ وہ پرازے کس چیز میں استعمال ہوتے ہیں۔
جرمنی میں ناموں کو صیغہ راز میں رکھنے کی جو پالیسی ہے اس کے تحت ملزمان کے پورے نام نہیں بتائے جاتے ہیں۔ اسی معاملے میں ملوث ایک اور مشتبہ شخص کا نام نہیں بتایا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ مشتبہ افراد کو جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے باعث اقوام متحدہ اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں مذاکرات بھی جاری ہیں لیکن ماسکو میں اس برس کے اوائل میں ہونے والی بات چيت بے نتیجہ رہی تھی۔






























