ایران سے تیل درآمدات پر امریکی پابندیاں

ترکی نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری میں بیس فیصد کمی کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنترکی نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری میں بیس فیصد کمی کر رہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف تازہ پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو منظور کر دیا ہے۔

صدر اوباما نے یہ متعین کیا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں اتنا تیل موجود ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک بغیر کسی تشویش کے ایران سے تیل خریدنا بند کر سکتے ہیں۔

صدر اوباما کے اس فیصلے کے تحت ان غیر ملکی بینکوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی جو اب بھی ایران کے ساتھ تیل کی تجارت میں شریک ہیں۔

ایران کے خلاف یہ پابندیاں اس کے متنازع جوہری پروگرام کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔ مغربی ممالک کا شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

براک اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ وہ تیل کی عالمی منڈی پر نظر رکھیں گے تاکہ ایران سے کم تیل خریدے جانے کی وجہ سے کسی قسم کا مسئلہ نہ ہو۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں صدر اوباما نے ایک ایسے قانون کو منظور کیا تھا جس کے تحت انہیں رواں سال اکتیس مارچ تک یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا عالمی منڈی میں اتنا تیل موجود ہے کہ ممالک ایران سے تیل کی خریداری بےحد کم کر پائیں۔

اس قانون کے تحت ممالک کو ایران سے خریدے جانے والے تیل کو کم کرنے کے لیے رواں سال اٹھائیس جون تک کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد ان پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

عائد کی گئی ان تازہ پابندیوں سے ایران سے زیادہ تیل درآمد کرنے والے ممالک جنوبی کوریا، بھارت، چین، ترکی اور جنوبی افریقہ پر دباؤ ہے۔

تاہم ترکی نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری میں بیس فیصد کمی کر رہا ہے۔