ایران سے تیل درآمدات پر امریکی پابندیاں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی صدر براک اوباما نے ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف تازہ پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو منظور کر دیا ہے۔
صدر اوباما نے یہ متعین کیا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں اتنا تیل موجود ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک بغیر کسی تشویش کے ایران سے تیل خریدنا بند کر سکتے ہیں۔
صدر اوباما کے اس فیصلے کے تحت ان غیر ملکی بینکوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی جو اب بھی ایران کے ساتھ تیل کی تجارت میں شریک ہیں۔
ایران کے خلاف یہ پابندیاں اس کے متنازع جوہری پروگرام کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔ مغربی ممالک کا شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
براک اوباما نے ایک بیان میں کہا کہ وہ تیل کی عالمی منڈی پر نظر رکھیں گے تاکہ ایران سے کم تیل خریدے جانے کی وجہ سے کسی قسم کا مسئلہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں صدر اوباما نے ایک ایسے قانون کو منظور کیا تھا جس کے تحت انہیں رواں سال اکتیس مارچ تک یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا عالمی منڈی میں اتنا تیل موجود ہے کہ ممالک ایران سے تیل کی خریداری بےحد کم کر پائیں۔
اس قانون کے تحت ممالک کو ایران سے خریدے جانے والے تیل کو کم کرنے کے لیے رواں سال اٹھائیس جون تک کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد ان پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
عائد کی گئی ان تازہ پابندیوں سے ایران سے زیادہ تیل درآمد کرنے والے ممالک جنوبی کوریا، بھارت، چین، ترکی اور جنوبی افریقہ پر دباؤ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ترکی نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری میں بیس فیصد کمی کر رہا ہے۔







