شامی فوج: حلب کے اہم حصے پر قبضے کا دعویٰ

شام

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحلب میں لڑائی کے دوران ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی حامی افواج نے دعوٰی کیا ہے کہ انھوں نے شدید لڑائی کے بعد سب سے بڑے شہر حلب کے اہم حصے پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ باغیوں نے فوج کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فوج نے حلب کے علاقے صالح الدین میں لڑائی کے دوران ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کا استعمال کیا۔

سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی تصاویر میں بمباری کے بعد تباہ شدہ عمارتوں میں لاشوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ـ امدادی کارکنوں کے مطابق فوج کی گولہ باری سے آج حلب میں بارہ افراد جاں بحق ہوئے تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حلب اور اس کے مضافات میں ہونے والے جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق نئی سیٹلائٹ تصاویر سے حلب کے علاقے صالح الدین میں بھاری اسلحہ کے استعمال سے پڑنے والے چھ سو بڑے بڑے گڑھے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ایمنسٹی کے سیٹلائٹ پروگرام کے اہلکار سکاٹ ایڈورڈ کا خیال ہے کہ یہ تصاویر حلب اور اس کے مضافات میں فوج کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کرتی ہیں۔ سکاٹ ایڈورڈ کہتے ہیں کہ وہ شام میں موجود تمام فریقین کو یہ دو ٹوک پیغام دینا چاہتیے ہیں کہ اقوام متحدہ کے مبصرین حلب میں موجود ہوں یا نہ ہوں ہمارے پاس سیٹلائٹ کی تصاویر موجود ہیں جن کے ذریعے شہریوں کے خلاف کیے جانے والے تمام حملوں کا واضح ریکارڈ رکھا جائے گا تاکہ ان کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جا سکے۔

تاہم باغیوں نے فوج کے ان دعووں کے تردید کی ہے ان کا کہنا ہے کہ حلب کا علاقہ صالح الدین باغیوں نے حکمت عملی کے تحت خالی کیا ہے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے باغی کمانڈر مالک کردی کا کہنا تھا کہ باغی فوجیوں کے خلاف گوریلا طرز کے حملے کر رہے ہیں۔

شام میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں لوگوں کو حلب کے مضافاتی علاقے میں ملبے سے لاشیں تلاش کرتے دکھایا گیا ہے جبکہ ایک جہاز سے ہونے والی بمباری کا منظر بھی ویڈیو میں محفوظ ہے۔

حلب میں موجود ایک جرمن صحافی کرٹ پیلڈا کے مطابق بہت سے شہری بمباری کرنے والے جہازوں کے نشانے خطا ہونے سے بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

جرمن صحافی کہتے ہیں کہ یہ تباہ کن ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد میں عام شہری ہیں۔’تمام بم رہائشی علاقوں پر گرے ہیں جہاں بہت تکلیف دہ مناظر تھے لوگ ملبے سے لاشیں ڈھونڈ رہے تھے میں نے ہسپتال میں ایک تین سالہ بچی کودیکھا جس کا پیر بمباری سے زخمی تھا‘۔

ایمنسٹی کے مطابق شام میں صرف منگل کے روز دو سو پچیس افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک سو انتیس شہری پچاس باغی اور چھیالیس فوجی شامل ہیں۔