شام کے وزیراعظم ’منحرف‘ ہو کر اردن پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شام کے وزیر اعظم ریاض حجاب کے ترجمان محمد العطری کے مطابق وہ منحرف ہو کر ’انقلابیوں‘ سے جا ملے ہیں اور اس وقت ایک محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔
ریاض حجاب کا تعلق سنی مسلک سے ہے اور دیرالزور کے علاقے سے تعلق رکھتےہیں۔ جس میں دو ہزار گیارہ کے بعد سے کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔
ریاض حجاب کو دو ماہ قبل وزیر اعظم مقرر کا گیا تھا اور وہ اب تک اسد حکومت کے سب سے اعلیٰ سطح کے عہدیدار ہیں جنہوں نے انحراف کیا ہے۔ اردن کی حکومت نے ان کے انحراف کی تصدیق کردی ہے۔
انہیں اسد حکومت کا سخت وفادار سمجھا جاتا تھا۔ وہ اپنے خاندان سمیت شام سے فرار ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف شام کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ وزیراعظم ریاض حجاب کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ عمر غلونجی کو وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے جو کہ ایک عبوری حکومت چلائیں گے۔
اس سے کچھ دیر پہلے شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق دمشق میں سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کی عمارت کی تیسری منزل میں ایک بم دھماکہ ہوا جس میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس دھماکے سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تاہم شام کے تینوں ٹی وی چینلز کی نشریات جاری ہیں۔ حکومت کے حامی الاخباریہ ٹی وی نے کارکنوں کو ایک زخمی ساتھی کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دکھایا۔
وزیر اطلاعات عمران الزوابی نے شامی ٹی وی کو بتایا کہ حکومتی میڈیا کو نشانہ بنانا ایک ’بے تاب اور بزدلانہ‘ فعل ہے۔ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ بم کس نے عمارت میں رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شامی افواج حلب پر دوبارہ قبضے کے لیے کوششیں کر ہی ہیں جبکہ باغیوں نے دمشق کے جن علاقوں پر گزشتہ کچھ دنوں میں قبضہ کیا تھا سرکاری افواج نے انہیں ان علاقوں سے بار دھکیل دیا ہے۔







