مٹ رومنی پر نسل پرستی کے الزامات

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مِٹ رومنی پر نسل پرستی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ فلسطینیوں کی آمدنی میں اسرائیل کے مقابلے میں کمی کی وجہ شاید ثقافت ہے۔
ایک سینیئر فلسطینی اہلکار کا کہنا تھا کہ مٹ رومنی نے اسرائیلی قبضے کی وجہ سے عائد اقتصادی پابندیوں کو اس پورے سوال میں بالکل نظر انداز کر دیا۔
تاہم مٹ رومنی کی انتخابی مہم کا موقف ہے کہ ان کے اسرائیل میں دیے گئے بیانات کی غلط توضیح ہو رہی ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس کے سابق گورنر اس وقت پولینڈ کے دورے پر ہیں جو کہ ان کے تین ملکی بین الاقوامی دورے کی آخری کڑی ہے۔ اس سے پہلے وہ اسرائیل اور برطانیہ کا دورہ کر چکے ہیں۔
یروشلم میں اپنی انتخابی مہم میں عطیات دینے والی چالیس شخصیات سے ناشتے پر ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہتر اقتصادی ترقی کو کیسے ممکن بنایا ہے۔
مبینہ طور پر مٹ رومنی نے اپنے مذکورہ بیان میں کہا ہے ’جب آپ یہاں آتے ہیں اور دیکھتے ہیں، مثلاً اسرائیل میں مجموعی ملکی پیداوار تقریباً اکیس ہزار ڈالر ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں یہ دس ہزار ڈالر کے قریب ہے، آپ کو اقتصادی طاقت میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے‘۔
انہوں نے ڈیوڈ لینڈم کی کتاب ’دا ویلتھ اینڈ پاورٹی آف نیشنز‘ کا حوالہ دیا جس میں اس سوال پر غور کیا گیا ہے کہ کچھ معاشرے اپنے ہمسایوں کے مقابلے میں زیادہ اقتصادی ترقی کیسے کر پاتے ہیں۔
مٹ رومنی نے کہا کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر ہم دنیا کی اقتصادی تاریخ پر غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اقتصادی ترقی میں ثقافت کا ایک اہم کردار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے بیچ اقتصادی تضاد در حقیقت مٹ رومنی کے بیانات سے بھی زیادہ شدید ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنہ دو ہزار گیارہ میں ورلڈ بینک کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل میں مجموعی ملکی پیداوار اکتیس ہزار ڈالر فی کس ہے جبکہ مغربی کنارے اور غزہ میں یہ صرف پندرہ سو ڈالر ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ایک مشیر صائب اراکات نے ان بیابات کے بارے میں کہا ’یہ بیان نسل پرست ہے اور انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ فلسطینی معیشت اپنی مکمل استعداد کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس شخص کے پاس اس خطے اور یہاں کے لوگوں کے بارے میں معلومات، علم، سوچ یا سمجھ بوجھ نہیں۔ انہیں اسرائیلیوں کے بارے میں بھی معلومات کم ہیں۔ میں نے کسی اسرائیلی اہلکار کو بھی ثقافتی برتری کے بارے میں بات کرتے نہیں سنا‘۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اسرائیل کے نائب وزیرِ خارجہ نے اس سلسلے میں مٹ رومنی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’یہ افسوس ناک ہے کہ فلسطینی ہر وجہ اور موقع پر اسرائیل یا کوئی بھی جو اسرائیل یا یہودی ثقافت کا احترام کرے، اسپر تنقید کرتے ہیں۔‘
اس سے پہلے مٹ رومنی کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یروشلم میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کو غیر مستحکم کرنے میں ایران سب سے بڑا خطرہ ہے۔
میزبان ملک کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے حقِ دفاع کا احترام کرتے ہیں اور امریکہ کے اسرائیل کی حمایت کرنے کو درست سمجھتے ہے۔
انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بھی کہا جسے دیگر اعلیٰ فلسطینی حکام نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔
یروشلم کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اہم نقطہ ہے۔
اس کے علاوہ مٹ رومنی کے ایک مشیر ڈین سینر کا کہنا تھا کہ صدارتی امیدوار اسرائیل کے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے کسی بھی فیصلے کا احترام کریں گے۔
دوسری جانب صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر زور پھر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سفارتی اور اقتصادی پابندیاں ایران کو روک سکیں گی تاہم آخر میں کوئی بھی آپشن خارجِ الامکان نہیں۔







