امریکی صدارتی امیدوار کی اسرائیل کی حمایت

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رامنی کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یروشلم میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران سب سے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے حقِ دفاع کا احترام کرتے ہیں اور امریکہ کا اسرائیل کی حمایت کرنا درست ہے۔
انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بھی پکارا جسے اعلیٰ فلسطینی حکام نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔
قدیم یروشلم کے پس منظر میں کھڑے انہوں نے کہا کہ ایران کے آیت اللہ ہمارے اخلاقی صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔
’وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کون انہیں روکے گا اور کون نظر انداز کرے گا۔ ہم نہ تو (ایرانی رویے کو) نظر انداز کریں گے اور نہ ہی ہمارا ملک کبھی اسرائیل سے دوستی اور تعلقات کو نظر انداز کرے گا‘۔
اس سے پہلے مٹ رامنی کے ایک مشیر ڈین سینر کا کہنا تھا کہ صدارتی امیدوار اسرائیل کے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے کسی بھی فیصلے کا احترام کریں گے۔
دوسری جانب صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طاقت کے براہِ راست استعمال کا واضح ذکر نہ کرتے ہوئے مٹ رامنی نے کہا کہ ایران کو جوہری راستے سے ہٹانے کے لیے امریکہ کو ہر ممکنہ طریقہِ کار استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سفارتی اور اقتصادی پابندیاں یہ کام کر سکیں گی تاہم آخر میں کوئی بھی آپشن خارجِ الامکان نہیں۔
اس سے پہلے اتوار کے روز انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور صدر شمعون پیریز سے ملاقاتیں کیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رامنی امید کر رہے ہیں کہ اسرائیل کی حمایت کی تائید انہیں آئندہ صدارتی انتخاب میں مدد کرے گی۔
اس کے علاوہ انہوں نے فلسطینی وزیرِاعظم سلام فیاد سے بھی ملاقات کی تاہم وہ صدر محمود عباس سے نہیں ملے۔
مٹ رامنی کے بین الاقوامی دورے کی پہلی کڑی کچھ اچھی نہیں رہی۔ برطانیہ میں لندن اولمپک مقابلوں کے بارے میں پہلے انہوں نے کہا تھا کہ تیاریوں کی چند علامات تشویشناک ہیں تاہم بعد میں اپنا بیان واپس لیتے ہوئے انہوں نے کامیاب ترین مقابلوں کی پیش گوئی کی تھی۔







