چین: متنازع علاقے میں فوجی اڈے کا قیام

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کو ملک کے مرکزی فوجی کمشن نے جنوبی چینی سمندر کے متنازع علاقے میں فوجی اڈے کے قیام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
چین کے جنوبی سمندر میں چین کی پہلے بھی فوج تعینات ہے اور یہ اقدام چین کی جانب سے خطے پر خودمختاری کے دعوں کو مضبوط کرنے کی ایک کڑی ہے۔
گزشتہ ماہ چین میں سان شا کے نام سے معروف اس متنازع علاقے کو چین نے انتظامی طور شہر کا درجہ دے دیا تھا۔
پارسیل جزیروں کے اس علاقے کو انگریزی زبان میں وڈی آئی لینڈ کہا جاتا ہے۔ چین نے سنہ انیس سو چوہتر میں ویتنام کے ساتھ ایک بحری جھڑپ کے بعد پارسیل جزیروں پر قبضہ سنبھال لیا تھا۔ سان شا کی مقامی آبادی چند ہزار کے قریب ہے جن میں زیادہ تر لوگ مچھیرے ہیں۔
ویتنام کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ ویتنام نے اقدام کی مزحمت کی ہے۔ ایک ماہ قبل جاری ہونے والے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ادارے کا کہنا ہے کہ سان شا شہر کا تقرر غیر قانونی ہے اور اس میں چند ایسے اضلع بھی شامل ہیں جو کہ ویتنام کی حدود میں ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں ہینوئی میں سینکڑوں ویتنامی مظاہرین نے سان شا کو شہری درجہ دینے اور چین کی جانب سے تیل کی کمپنیوں کو ٹھیکوں کے لیے دعوت دینے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
جنوبی چینی سمندر برِاعظم ایشیا میں جنگی لحاظ سے خطرناک ہوتا جا رہا ہے جہاں چین، ویتنام اور فلپائن کے اپنے اپنے علاقائی دعوے ہیں۔
ادھر چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ سان شا فوجی اڈّہ ’قومی عسکری نقل و حرکت‘ میں مدد دے گا اور علاقائی سطح پر ہنگامی حالات اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں کردار ادا کرئے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







