امریکہ: میکسیکو سرحد پر غیر قانونی سرنگیں

سرنگ
،تصویر کا کیپشنامریکہ کہ کہنا ہے کہ سرنگ کی تعمیر دیکھ کر اندارزہ ہوتا ہے کہ اسے کسی عام مزدور نہ نہیں بنایا ہے

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دو ایسی سرنگوں کا پتہ چلا ہے جن کی تعمیر ممکنہ طور پر منشیات کی سمگلنگ کی لیے کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ سرنگیں جدید تکنیک سے بنائی گئی ہیں۔ ان سرنگوں کی لمبائی دو سو میٹر سے زیادہ ہے اور اس میں روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہے۔

ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ سرنگیں کان میں کام کرنے والے کسی عام مزدور کی بنائی ہوئی نہیں ہوسکتی ہیں۔

میکسیکو کی فوج نے پہلی سرنگ کا پتہ جمعرات کو لگایا تھا۔ اس سرنگ کی تعمیرکا کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ یہ سرنگ تیوانا میں ایک گودام کے غسل خانے کے نیچے سے نکالی گئی ہے۔

حکام کے مطابق دوسری سرنگ مکیسیکو کے شہر سین لوئی ریئیو کولوراڈو کے ایک برف گھر سے گزرتی ہوئی امریکی ریاست ایریزونہ کے شہر سین لوئی کی ایک ایسی عمارت سے جڑتی ہے جو بقول حکام کے ایک بے حد عام سی عمارت ہے۔

ایریزونہ تک جانے والی سرنگ کے سلسلے میں تین افراد کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرنگوں کی حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ پرانی نہیں تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی تعمیر پر پندرہ لاکھ ذالر لاگت آئی ہوگی۔

سنہ 1990 سے لے کر اب تک امریکہ اور میکسیکو سے متثل سرحد پر ایسی ڈیڑھ سو سے زیادہ سرنگیں پائي گئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر سرنگیں کچے گلیارے جیسے تھیں۔