’مفاہمتی عمل کے لیے طالبان سے روابط بڑھانا اہم‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے وزرائے خارجہ پر مشتمل سہ فریقی کور گروپ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جاری مفاہمتی عمل میں تیزی لانے کے لیے طالبان سے مختلف ذرائع کی مدد سے روابط بڑھانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بات ٹوکیو میں اتوار کو افغانستان کی امداد کے لیے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہی گئی ہے۔
ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور ان کے پاکستانی اور افغان ہم منصب حنا ربانی کھر اور زلمے رسول نے افغان حکومت کے مسلح مخالفین سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ تشدد کی راہ ترک کر دیں اور مذاکرات کا آغاز کریں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی عمل کو ’مزید تیز کرنے کے لیے ہم نے مسلح مخالفین سے رابطے بڑھانے اور بات چیت کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرنے کی اہمیت کا اعادہ کیا ہے‘۔
بیان میں افغان حکومت اور اس کے مخالفین سے کہا گیا ہے کہ وہ ’اپنی قوتیں بات چیت کے اس خیال کو سمجھنے، اسی جذبے سے اس تجویز کا جواب دینے اور افغان سیاسی عمل کی حمایت کرنے میں صرف کریں کیونکہ اس کا نتیجہ افغانستان اور خطے میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کی صورت میں نکلے گا‘۔
وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کور گروپ کا مقصد افغانستان میں قیامِ امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت کے لیے پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان کو دوبارہ کبھی بھی القاعدہ یا کسی ایسے دہشتگرد گروہ کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جانا چاہیے جو عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو۔
بیان کے مطابق اس بات کا فیصلہ صرف افغان کر سکتے ہیں کہ انہیں کیسے اکٹھا رہنا ہے، ان کے ملک کا مستقبل کیسا ہونا چاہیے اور ان کے ملک کا خطے میں اور باقی دنیا میں کردار کیا ہونا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں ایسے امن عمل کی حمایت کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے پرعزم ہیں جس میں افراد اور گروہ عالمی دہشتگردی سے ناتا توڑ دیں، تشدد ترک کر دیں اور افغان آئین کی پاسداری کرتے ہوئے افغان خواتین اور مردوں کے حقوق کی حفاظت کریں۔
.







