’یاسر عرفات کی موت زہر سے ہوئی‘، بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ

یاسر عرفات
،تصویر کا کیپشنعرفات کے طبی ریکارڈ کے مطابق ان کی موت خون کی گردش میں بے قاعدگی کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی

فلسطینی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کے سابق رہنما یاسر عرفات کی موت کی بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں۔یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا ہے جب ایک دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یاسر عرفات کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔

فلسطینی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر ان کی موت کی بین الاقوامی تحقیقات کا فیصلہ ہوتا ہے تو وہ طبی تجزیوں کے لیے ان کی قبرکشائی کے لیے تیار ہے۔

یاسر عرفات کی موت کے متعلق نیا دعویٰ الجزیرہ ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں سامنے آیا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ 2004 میں عرفات کی موت کے بعد ان کی زیرِ استعمال جو چیزیں ان کی بیوہ کے حوالے کی گئیں ان میں ایک خاص قسم کا تابکاری مادہ پلونیم 210 کے ذرات پائے گئے۔

عرفات کے طبی ریکارڈ کے مطابق ان کی موت خون کی گردش میں بے قاعدگی کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔

زیادہ تر فلسطینیوں کا خیال ہے کہ ان کے صدر یاسر عرفات کو اسرائیل نے زہر دے کر ہلاک کیا تھا کیونکہ وہ عرفات کو امن میں رکاوٹ تصور کرتا تھا اور اسی لیے ان کو نظربند کردیا تھا۔ تاہم کئی فلسطینیوں کا خیال ہے کہ یاسر عرفات کو مہلک بیماری ایڈز تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے ادارے میں مسٹر عرفات کی چیزوں کا تجزیہ کرنے والے ایک طبی ماہر نے کہا ’تابکاری مادے کے سب سے زیادہ ذرات ان کے انڈر ویئر اور روسی ٹوپی پر پایئے گئے جسے پہن کر وہ پیرس گئے تھے یا جسے رملہ سے نکلتے وقت انہوں نے پہن رکھا تھا۔ ان کے ٹوتھ برش پر بھی تابکاری مادے کے ذرات ملے ہیں۔‘

عرفات کی موت کے بعد ان کی بیوہ صوحا عرفات نے ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم اب وہ چاہتی ہیں کہ ان کی لاش کو قبر سے نکالا جائے تاکہ حقیقت کا پتہ چلانے کے لیے مزید لیبارٹری ٹیسٹ کرائے جاسکیں۔

ان کے سابق ساتھی نبیل ابو ردینہ نے جو اب فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان ہیںکا کہنا ہے کہ اگر فلسطینی رہنما کے خاندان کی طرف سے درخواست آتی ہے تو اس معاملے کی مزید تحقیقات کی راہ میں کوئی مذہبی یا سیاسی رکاوٹ نہیں۔

ایک اور سینئر فلسطینی رہنما صائب ارکات نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا عالمی عدالت انصاف کے ذریعے کوئی بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی بنے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے۔

یاسر عرفات جو پینتیس برس تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے قائد رہے اور 1996 میں وہ فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر بنے۔ وہ اکتوبر 2004 میں غرب اردن میں واقع اپنی محصور رہائش گاہ پر شدید بیمار ہوگئے تھے۔ دو ہفتے بعد انہیں علاج کے لیے پیرس لے جایا گیا تھا جہاں وہ گیارہ نومبر 2004 کو 75 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

فرانسیسی ڈاکٹر نجی معلومات کو خفیہ رکھنے کے قوانین کے تحت پابند تھے اس لیے انہوں نے عرفات کی طبی حالت کے بارے میں معلومات ظاہر نہیں کیں۔