’امریکہ طالبان مذاکرات کی بحالی کے اشارے‘

،تصویر کا ذریعہAP
افغان طالبان کے ایک اعلیٰ رہنما قاری دین محمد حنیف نے کہا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں۔
قاری دین محمد حنیف نے یہ بات جاپانی ٹیلی ویژن این ایچ کے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے۔
افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں سے تعلق رکھنے والے قاری دین محمد طالبان کی حکومت میں منصوبہ بندی کے وزیر رہ چکے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کی موجودہ سیاسی کمیٹی کے ایک اہم رکن ہیں۔
ان دنوں قطر میں مقیم قاری دین محمد نے حال ہی میں جاپان میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس میں طالبان کے نمائندے کے طور پر اپنا مقالہ پیش کیا تھا۔
بی بی سی کے صحافی احمد ولی مجیب کے مطابق طالبان کے ترجمان ذیبح اللہ مجاہد نے بھی ان کی جاپان میں طالبان کے نمائندے کے طور پر موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ان کا ایک اعلیٰ اہلکارجاپان میں موجود ہے جو ایک بین الاقوامی کانفرنس میں افغانستان کے مسئلے پر بات چیت کرے گا۔
طالبان کے علاوہ اس کانفرنس میں افغان حکومت کے اہلکاروں سمیت افغان امن کونسل کے اراکین ،حزب اسلامی کے رہنما ڈاکٹر غیرت بھیر،پاکستان میں سابق طالبان سفیر ملاعبد السلام ضیعف نے بھی خطاب کیا۔
امریکا کے ساتھ مذاکرات کے تعطل کے بارے میں قاری دین محمد نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جن میں قیدیوں کی رہائی بنیادی مسئلہ تھا اس لیے مذاکرات موقوف کرنے پڑے۔
طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات رواں برس مارچ میں اس وقت تعطل کا شکار ہوئے جب طالبان نے اعلان کیا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے ہیں لیکن مذاکرات کے تعطل کے باوجود طالبان کے مذاکرات کار تاحال قطر میں موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاری دین محمد حنیف کے مطابق طالبان کے لیے سنہ 2014 میں امریکی فوجیوں کا انخلاء سب سے اہم ہے کیونکہ غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی جنگ کے جاری رہنے کی اہم وجہ ہے۔
اس وقت اگرچہ امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات معطل ہیں لیکن قطر میں موجود طالبان رہنما کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت موجودہ حالات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔







