’شام میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ شام میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم مرتکب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مجوزہ چھ نکاتی امن منصوبے پر فوری اور غیرمشروط عملدرآمد کریں۔
<link type="page"><caption> شام میں ایک اور قتل عام، حما میں اٹھہتر افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/06/120606_syria_huma_massacre_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
بان کی مون نے یہ بات جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں جنرل اسمبلی میں شام کی صورتحال پر بلائے جانیوالے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔
نامہ نگار حسن مجتبیٰ کے مطابق سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شام میں معصوم شہریوں کا قتل عام، انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیاں، وسیع ترین پیمانوں پر گرفتاریاں، تشدد، سزائے موت کی طرح خاندانوں کے خاندان ختم کر دینا اب ’معمول‘ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا پچھلے کئي ماہ سے صدر بشار الاسد نےاپنے اعمال سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ شام میں برسرِ اقتدار رہنے کے تمام قانونی جواز ختم کر چکے ہیں۔
جنرل اسبملی میں شام میں قتل عام اور تشدد میں ہلاک ہونیوالوں کیلیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل اور شام میں عرب لیگ کے ایلچی خاص کوفی عنان نے بھی شام کی صورتحال پر بلائے جانی والی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے شام کی صورتحال کی ابتری کی شروعات سے لیکر اب تک کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شام میں وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے جبکہ صدر بشار اسد نے اب تک اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر شام میں موجودہ صورتحال جاری رہی تو پھر ایک قتل عام، خانہ جنگی اور فرقہ وارارنہ خونریزی آنے والے دنوں میں ہوتی دکھائے دیتی ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نے سکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ تمام ممالک شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت ختم کر دیں لیکن چین اور روس نے بیرونی مداخلت کے خلاف اپنا موقف دہرایا اور کہا کہ طاقت سے شام میں اقتدار کی منتقلی کے حق میں نہیں۔
شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں القبیر قصبے میں جانے سے روک رہی ہے جہاں پر تقریباً اسّی افراد کے قتل عام کی اطاعات مل رہی ہیں۔
شام میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ’مبصرین کو شامی فوج کی چیک پوسٹوں پر روکا جا رہا ہے اور بعض معاملات میں انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔‘
مشن کے سربراہ جنرل رابرٹ موڈ نے کہا کہ مبصرین حما شہر کے قریب واقع گاؤں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حما میں عام شہری بھی مبصرین کی گاڑیوں کو روک رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’علاقے کے رہائشیوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گاؤں میں داخل ہونے پر مبصرین کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘
’ان تمام مشکلات کے باوجود مبصرین گاؤں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہاں زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔‘
امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے شامی صدر بشار الاسد سے فوری طور پر اقتدار سے الگ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بدھ کے پرتشدد واقعے میں حکومت ملوث ہے۔
اس سے پہلے شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کے حکومت کی حامی فورسز نے حما میں عورتوں اور بچوں سمیت اسّی افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
شام میں حزبِ اختلاف کے اتحاد شامی قومی کونسل کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قتلِ عام القبیر اور مارزاف نامی دو دیہاتوں میں ہوا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بیس سے زائد بچے اور اتنی ہی تعداد میں خواتین شامل ہیں۔
شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ فوج کو ’دہشتگردوں‘ کے خلاف کارروائی کے بعد کچھ لاشیں ملی ہیں۔
تاہم آزاد ذرائع سے دونوں جانب سے ملنے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
لگ بھگ دو ہفتے قبل ہی شام میں حولہ نامی قصبے میں ایک سو آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جن میں بڑی تعداد میں بچے شامل تھے۔
اس واقعے کے لیے عینی شاہدین حکومت کی حامی ملیشیا کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا مسلح گروپ کر رہے ہیں تاکہ شام کے خلاف غیر ملکی فوجی طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کیا جا سکے۔







