اسرائیل:’نتن یاہو حکومت بچانے میں کامیاب‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نئی اتحادی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں جس کے بعد ملک میں قبل از وقت انتخابات کا امکان باقی نہیں رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایک حیران کن اقدام کے تحت نتن یاہو کی لیکود پارٹی نے حزبِ اختلاف کی خدیمہ پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔
اسرائیلی سیاستدانوں کی جانب سے تاحال ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں آئی ہیں جب اسرائیلی پارلیمان میں اسمبلی توڑ کر انتخابات کی راہ ہموار کرنے پر بحث ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خدیمہ ’ٹال لاء‘ کہے جانے والے قانون میں تبدیلیوں کے بدلے میں نتن یاہو کی حکومت کی حمایت کرے گی۔
یہ قانون الٹرا آرتھوڈوکس یہودی مدارس کے طلباء کو لازمی فوجی سروس کے التواء کی اجازت دیتا ہے۔ اس قانون کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے فروری میں غیر آئینی قرار دیا تھا۔
سیکولرز کا کہنا ہے کہ یہ قانون غیر منصفانہ ہے جبکہ چھوٹی مذہبی جماعتیں، جو کہ نتن یاہو کے موجودہ اتحاد میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، قدامت پسند یہودی طلباء کو فوجی نوکری پر مذہبی تعلیم کو ترجیح دینے کا موقع فراہم کرنے کی حامی ہیں۔
خدیمہ اور لیکود کے معاہدے کے تحت خدیمہ کے رہنما شوال مفاذ کو نائب وزیراعظم بنائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنیامن نتن یاہو کی حکومت نے اکتوبر دو ہزار تیرہ تک برسرِاقتدار رہنا ہے۔







