ڈیوڈ کیمرون کی برما میں سوچی سے ملاقات

تھین سیئن اور ڈیوڈ کیمرون

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبرما میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برما میں آنے والی تبدیلیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ان تبدیلیوں کا احترام کرتے ہوئے برما کے خلاف اقتصادی پابندیاں ختم کی جانی چاہیں۔

یہ بات انھوں نے جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سوچی سے رنگون میں ملاقات کے بعد کہی۔

سوچی نے ان کی مانگ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے خاتمے سے اصلاحات کرنے والے ہاتھوں کو تقویت ملے گی۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون برما کے دورے پر ہیں اور اس طرح وہ پہلے برطانوی وزیر اعظم بن گئے ہیں جنہوں نے برما کا دورہ کیا ہے۔

انہوں نے برما کے دارالحکومت نے پی تھا میں برما کے صدر تھین سیئن سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے جمہوریت حامی سیاستدان آنگ سان سوچی سے رنگون میں ملاقات کی۔

اپنی برما آمد کے بعد برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ جمہوریت کا عمل اب پیچھے نہ جائے ۔

ڈیوڈ کیمرون پہلے یورپی رہنما ہیں جنہوں نے برما میں ضمنی انتخابات میں آنگ سان سوچی کی کامیابی کے بعد برما کا دورہ کیا ہے۔

سوچی

،تصویر کا ذریعہReuters

اس سے قبل برما پر لگ بھگ نصف صدی تک فوجیوں کی حکومت تھی۔ یورپی یونین، امریکہ اور دوسرے ممالک نے برما کے خلاف پابندی ‏عائد کر رکھی تھی۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا: ’یہاں اب ایک ایسی حکومت ہے جس کا دعو‏یٰ ہے کہ وہ اصلاحات کے لیے پابند ہے اور اس ضمن میں اقدام کر رہی ہے اس لیے میرے خیال سے ان اقدام کی حوصلہ آفزائی کیا جانا درست ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا:’ہمیں کسی خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیۓ کیونکہ ہمیں ابھی طویل راستہ طے کرنا ہے اور ابھی حکومت کو بہت سارے کام کرنے ہیں تاکہ یہ نظر آئے کہ یہ تبدیلیاں حقیقی ہیں۔‘

انھوں نے آنگ سان سوچی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’لوگوں کے لیے آزادی، جمہوریت اور ترقی درخشاں مثال‘ سے تعبیر کیا۔

برما میں بیس سال کے عرصے میں پہلی بار عام انتخابات سن دو ہزار دس میں کرائے گئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ میں فوج کی حمایت سے بر سر اقتدار آنے والی حکومت کے قیام کے بعد کئی قسم کی اصلاحات سامنے آئی ہیں جن میں سینکڑوں سیاسی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ کئی دہائیوں کی تنہائی کا دور شاید ختم ہونے کو ہے۔