قاتل جوڑے کو عمر قید کی سزا

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ کے علاقے مشرقی لندن میں پندرھ سالہ بچے پر جادو ٹونے کا الزام لگا کر اسے قتل کرنے والے جوڑے کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
پندرہ سالہ کرسٹی بامو کو دو ہزار دس میں اس وقت قتل کیاگیا جب وہ کرسمس کے موقع پر اپنے چار بہن بھائیوں کے ہمراہ پیرس سے اپنی بہن مگالی بامو اور ان کے ساتھی ایرک بکوبی سے ملنے لندن آئے تھے۔
عدالت نے اٹھائیس سالہ بِکوبی کو کم از کم تیس سال اور انتیس سالہ بامو کو کم از کم پچیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
بھوت پریت کا اثر ختم کرنے کے عمل کے دوران پندرہ سالہ کرسٹی پر تشدد کیا گیا جس دوران وہ باتھ ٹب میں ڈوب گئے۔
بِکوبی نے کرسٹی کے بہن بھائیوں پر بھی یہ کہہ کر حملہ کیا کہ ان کی وجہ سے ان کے گھر میں جادو ٹونا ہوا۔
کرسٹی کی بیس اور گیارہ سالہ بہنوں نے مزید تشدد سے بچنے کے لیے یہ ’اعتراف‘ کر لیا کہ وہ چڑیلیں ہیں۔
کرسٹی کی بہن کیلی نے جو اب اکیس سال کی ہیں عدالت کو بتایا کہ ’اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ جادو ٹونا ان کے ذہن پر طاری ہے اور انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم انہیں قتل کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘
ایک موقع پر یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا وہ اڑ سکتے ہیں بِکوبی نے ان سے کہا کہ وہ کھڑکی سے چھلانگ لگائیں۔ انہوں نے اپنی بڑی بہن سے مدد مانگی لیکن بامو نے بِکوبی کا ساتھ دیتے ہوئے کرسٹی کو اس وقت تک مارا جب تک اس نے بھی جادو ٹونے کا اعتراف نہ کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انہوں نے بتایا کہ ’کرسٹی نے معافی مانگی۔ اس نے با بار معافی مانگی۔ مگالی نے کچھ نہیں کیا۔ اس نے بلکل نہیں سنا اور کہا کہ تم لوگ اس کے مستحق ہو۔‘
سزا سناتے وقت جج کا کہنا تھا کہ ان بچوں کو جس خوفناک تجربے سے گزرنا پڑا وہ ناقابل یقین ہے۔ تاہم جج نے بِکوبی کے اس دفاع کو تسلیم کیا کہ وہ ذہنی عدم توازن کا شکار ہے۔عدالت میں بتایا گیا کہ بِکوبی اور بامو نے کرسٹی کے پانی میں ڈوبنے سے پہلے چُھریوں، ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں، ہتھوڑے اور چھینی سے اس پر حملہ کیا۔
بِکوبی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ اگر بِکوبی ذہنی عدم توازن کا شکار نہ ہوتا تو جو ہوا اس کا انجام یہ نہ ہوتا۔‘
مگالی کی وکیل نے کہا کہ ’نہ صرف اس نے اپنی پوری فیملی کھو دی ہے بلکہ اسے تمام عمر جیل میں تنہا رہنے کی سزا کا بھی سامنا ہے۔‘
اس سے قبل کرسٹی کے والد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ جان کر اس درد میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ کرسٹی کی اپنی بہن نے اسے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘
سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دس سال میں رسمی اور مذہبی عقائد کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کے 83 کیسوں کی تحقیق کی ہے۔







