افغانستان: بچوں کی ہلاکت نیٹو کے خلاف تحقیقات

،تصویر کا ذریعہKnights Armament Blog
ایک فضائی حملے میں بچوں کی ہلاکتوں کے بعد افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے حکم پر نیٹو افواج کے خلاف ایک تحقیقات پیر کے روز شروع کر دی گئی ہیں۔
اگرچہ نیٹو نے افغانستان کے مشرقی صوبے کپیسا کے علاقے نجراب میں ہونے والے اس حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی فوری تصدیق نہیں کی لیکن اس تحقیقات کے سربراہ محمد ظاہر سفی کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں معصوم بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا ’اس واقعے سے صرف اس علاقے کے نہیں بلکہ پورے افغانستان کے لوگ پریشان اور ناراض ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کا حقوقِ انسانی کے ادارے ہیومن رائٹس واچ اور افغان ہیومن رائٹس کمیشن سے یہ مطالبہ ہے کہ ان بچوں کے حقوق کہاں ہیں اور اگر ہیں تو ان کی اس طرح خلاف ورزی کیوں کی گئی۔
دوسری جانب نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
نیٹو کی آئی سیف افواج کے ترجمان کارسٹن جیکبسن نے اس بارے میں کہا ’اب تک اکٹھی کی جانے والی معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کم عمر کے افغان شہری تھے۔‘
انہوں نے بتایا ’فی الوقت ہم یقین سے نہ تو اس واقعے کی تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے رد کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ معصوم شہریوں کی ہلاکتیں ایک المیہ ہے۔‘



