مالدیپ شورش: صدر نے استعفٰی دے دیا

مالدیپ کے صدر محمد نشید

،تصویر کا ذریعہReuters

مالدیپ کے صدر محمد نشید نے کئی ہفتوں کے مظاہروں اور پولیس کی بغاوت کے بعد اپنے عہدے سے استعفٰی دے یا ہے۔

سرکاری ٹیلی وثرن پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’ موجودہ حالات میں ملک کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ میں یہ عہدہ چھوڑ دوں‘۔

انہوں نے کہا کہ’ میں طاقت کے بل پر حکومت نہیں کرنا چاہتا اس لیے میں استعفٰی دے رہا ہوں‘۔

مسٹر نشید کے استعفے کے بعد نائب صدر وحید حسن نے صدر کے عہدے کا حلف لیا۔

اس سے قبل باغی پولیس افسران کے ایک گروپ نے دارالحکومت میں سرکاری ریڈیو سٹیشن پر قبضہ کرکے سابق صدر معمون عبدالقیوم کے حق میں پیغام نشر کرنے شروع کر دیے تھے۔

اس کے علاوہ عمارت میں متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ مالدیپ میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوا جب مالدیپ کی فوج نے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرنے والے ایک سینئیر جج کو گرفتار کیا۔

صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’یہ سابق حکومت کی جانب سے بغاوت ہے‘ تاہم فوج اور نائب صدر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ ایک بغاوت ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کی خبروں کے مطابق مسٹر حسن کے دفتر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ فوج نے مسٹر نشید پر استعفٰی دینے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

مسٹر حسن کے سیکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ بغاوت نہیں بلکہ عام لوگوں کی خواہش تھی۔