’طالبان دشمن نہیں‘ کرزئی کا خیرمقدم

حامد کرزائی نے کہا کہ وہ امریکی حکومت کے اِس اعلان پر خوش ہیں کہ طالبان امریکہ کے دشمن نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحامد کرزائی نے کہا کہ وہ امریکی حکومت کے اِس اعلان پر خوش ہیں کہ طالبان امریکہ کے دشمن نہیں ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکی حکومت کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان امریکہ کے دشمن نہیں ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کے اس موقف سے افغانستان میں استحکام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

حامد کرزائی نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طالبان ان کے دشمن نہیں ہیں۔ ہم اس بات پر بہت خوش ہیں کہ ملک میں بدامنی، تکلیف اور افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی وجہ اب ختم ہو جائے گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس پیغام سے افغان عوام کو امن اور استحکام قائم کرنے میں مدد ملے گی اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو تعلیم حاصل ہو۔

اس ماہ کے شروع میں امریکی نائب صدر جو بائڈن نے امریکی جریدے نیوز ویک میں انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر طالبان القاعدہ کی مدد نہ کریں تو وہ امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔

جوبائڈن کے اس بیان نے امریکہ میں ایک شور برپا کر دیا تھا کیونکہ امریکہ گزشتہ دس سال سے افغانستان میں طالبان کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔

امریکہ گزشتہ دس برس سے افغانستان میں طالبان سے جنگ کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC NEWS

،تصویر کا کیپشنامریکہ گزشتہ دس برس سے افغانستان میں طالبان سے جنگ کر رہا ہے۔

اس سے پہلے فغانستان نے کسی بھی اسلامی ملک میں طالبان کا نمائندہ دفتر کھُلنے کی صورت میں اُن سے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق، افغان امن کونسل کے ایک اجلاس کے بعد، گیارہ نکاتی دستاویز غیر ملکی سفارتخانوں کو بھیجی گئی جس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی شرائط کا تعین کیا گیا تھا۔

دستاویز میں ترکی اور سعودی عرب میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دفتر کو ترجیح دی گئی لیکن کہا گیا کہ کسی دوسرے اسلامی ملک میں ایسا دفتر ہونے کی صورت میں بھی افغان حکومت کو اعتراض نہیں ہو گا۔