عالمی معیشت کی حالت اچھی نہیں
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور کوئی بھی ملک اس خطرے سے باہر نہیں ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے مزید کہا کہ دنیا کی کوئی بھی معیشت اس خطرے سے بچی ہوئی نہیں ہے جس کی شدت ابھی سامنے آ رہی ہے بلکہ یہ خطرہ تیزی سے سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امید ہے کہ تمام ملک اور تمام خطے ملکر اس بحران سے نکلنے کے لیے اقدامات کریں گے۔
دریں اثناء مالیاتی اداروں اور بینکوں کی درجہ بندی کرنے والے ادارے اسٹینڈرڈ اینڈ پورز ایجنسی نے دس ہسپانوی بینکوں کی ریٹنگ گھٹا دی ہے۔
فرانس میں شماریات کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ یورپ کی دوسری بڑی معیشت اس سال کی آخری سہ ماہی اور سنہ دو ہزار بارہ کی پہلی سہ ماہی میں مندی کا شکار ہو سکتی ہے۔
فرانس، سپین اور اٹلی میں شرح سود میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بہت سے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ان تینوں ملکوں میں ایک کو مالی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ماہرین کو چاہیے کہ مالی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے ہمہ جہتی حمکت عملی تیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی، کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی اور اس کو وہاں سے شروع کرنا ہو گا جہاں یہ اس وقت اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے جو کہ واضح طور پر یورپ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محترمہ لیگارڈ نے کہا کہ ایشیاء اور لاطینی امریکہ میں معیشت کئی جگہوں پر بہتر ہے جہاں سنہ انیس سو اسی اور نوے کی دہائی میں بینکنگ کے شعبے میں مالیاتی کمزرویوں کو آئی ایم ایف کے مشورے سے دور کر لیا گیا تھا۔







