برطانیہ میں خواتین کو بھی ولی عہد بننے کا حق

ڈیوک اور ڈچس آف کیمبرج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنڈیوک اور ڈچس آف کیمبرج کی پہلی اولاد بیٹی ہوئی تو وہی ولی عہد بنے گی

دولت مشترکہ کے رہنماؤں نے ولی عہد بننے کے قوانین میں اس تبدیلی پر اتفاق کیا ہے کہ برطانیہ میں اگلے بادشاہ یا ملکہ کے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو بھی حکمراں بننے کا حق حاصل ہو گا۔

آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں دولت مشترکہ کے ان سولہ ممالک کے رہنماؤں نے اس تبدیلی پر متفقہ طور پر اتفاق کیا جہاں برطانوی ملکہ کو سربراہِ مملکت مانا جاتا ہے۔

اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ اگر موجودہ ڈیوک اور ڈچس آف کیمبرج کی پہلی اولاد بیٹی ہو گی، تو اسے ولی عہد بنایا جائے گا نا کہ اس کے چھوٹے بھائیوں کو۔

اس سے پہلے ان تین سو سال پرانے قوانین کے مطابق، ولی عہد صرف بادشاہ یا ملکہ کا سب سے بڑا بیٹا ہو سکتا تھا۔ اگر کوئی بیٹے نہ ہوں تو ہی سب سے بڑی بیٹی کو تخت و تاج دیا جاتا تھا۔ موجودہ ملکہ الیزبتھ کو بھی اسی صورت میں برطانیہ کی ملکہ کا تاج ملا تھا۔

کسی بھی بادشاہ یا ملکہ کے رومن کیتھلک فرقہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے شادی کرنے پر پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

ان تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ یہ قوانین اب شہزادہ چارلز کی اولاد پر لاگو ہوں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب اگر شہزادہ ولیم کی پہلی اولاد بیٹی ہوئی، تو یہی بچی ایک دن برطانیہ کی ملکہ بنے گی۔

آسٹریلیا کی وزیر اعظم جولیا گلرڈ نے کہا کہ یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے وہ ایسی کسی بھی تبدیلی کا پرجوش خیرمقدم کرتی ہیں جس کے تحت خواتین کو مردوں کے برابر حقوق ملیں۔

تاہم بادشاہت کے خلاف مہم چلانے والے ادارے ریپبلک نے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں سے کچھ بھی نہیں بدلا۔ رپبلک کے ترجمان گریہم سمتھ کا کہنا تھا کہ بادشاہت ہر اُس مرد، عورت اور بچے کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے جو ونڈسر خاندان سے باہر پیدا ہوا ہے۔