سرت پر جنگجوؤں کے تازہ اور شدید حملے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا میں عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے کرنل قذافی کے آخری مضبوط گڑھ سرت پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
جنگجو اب سرت شہر کے وسط سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جبکہ شہر میں گولیوں کی شدید آوازیں سنی جا رہی ہیں اور کئی جگہوں سے دھویں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ جیسے ہی رات آئی تھی جنگجوؤں نے نئے حملوں کے لیے اپنے آپ کو منظم کیا تھا۔
سرت کرنل قذافی کی جائے پیدائش ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ وہ اب اسی شہر میں موجود ہیں یا نہیں۔
دریں اثناء دارالحکومت طرابلس میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے۔
حکام کے خیال میں اس اجتماعی قبر میں ان بارہ سو ستر افراد کی باقیات ہیں جن کا سنہ انیس سو چھیانوے میں کرنل قذافی کی سکیورٹی فورسز نے ابو سلیم جیل میں قتل عام کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہnone
سرت میں جنگجوؤں کے ساتھ موجود بی بی سی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سرت عبوری حکومت کے جنگجوؤں کے لیے ایک بڑا ہدف رہا ہے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر بھی عبوری حکومت کے جنگجوؤں کی جھولی میں گرنے والا ہے۔
سرت کرنل قذافی کے حامیوں کے دو مضبوط ٹھکانوں میں سے ایک ہے جہاں عبوری حکومت کے جنگجوؤں کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں کئی حملے ناکام بنائے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبوری حکومت کے ایک جنگجو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کے قذافی کی حامی فوج مسجدوں اور دوسری عمارتوں پر سے گولیاں چلا رہی ہے۔ ’وہ لوگ گھروں اور عوامی عمارتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔‘
طبی کارکنوں نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ عبوری حکومت کے دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
عبوری حکومت کی فوج کو کرنل قذافی کے دوسرے مضبوط گڑھ بنی ولید میں بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ بنی ولید دارالحکومت طرابلس سے جنوب مشرق کی جانب ہے۔
لیبیا کے حکمران رہنے والے کرنل معمر قذافی کے متعدد ساتھی اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد ہمسایہ ممالک الجیریا اور نائجر جا چکے ہیں۔







