امریکہ میں غربت بلند ترین سطح پر

امریکہ میں غربت کی زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد گذشتہ برس بڑھ کر ساڑھے چار کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ میں مردم شماری کے ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ہر چھ میں سے ایک امریکی شہری غربت کی زندگی گزار رہا ہے۔
دو ہزار دس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ میں غربت کی شرح پندرہ اعشاریہ ایک فیصد تک ہوگئی ہے جبکہ یہی شرح دو ہزار نو میں چودہ اعشاریہ دو فیصد تھی۔
<link type="page"><caption> ’اقتصادی بحران:چھ کروڑ غربت کے دائرے میں داخل‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/07/100722_recession_poverty_increase.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد جن کی صحت کی انشورنس نہیں کی گئی وہ بھی بڑھ کر انچاس اعشارہ نو فیصد ہو گئے ہیں۔
امریکہ میں انیس سو تراسی کے بعد غربت کی یہ بلند شرح ترین ہے۔ اس سے پہلے انیس سو ترانوے میں غربت کی شرح اس قدر بلند ہوئی تھی۔
امریکہ میں گزشتہ چار برس میں ایسے لوگوں کی تعداد جو غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
امریکہ میں غربت کے لیے مقرر معاشی حد یہ ہے کہ چار افراد کے خاندان کے لیے سالانہ آمدنی بائیس ہزار تین سو چودہ ڈالر یا اس سے کم ہو اور اور فی کس سالانہ آمدن گیارہ ہزار ایک سو انتالیس ڈالر ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں مردم شماری کے ادارے کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی مجموعی آبادی کی نسبت سیاہ فاموں اور ہسپانوی لوگوں میں غربت زیادہ بڑھی ہے جو بالترتیب ستائیس اعشاریہ چار فیصد اور چھبیس اعشاریہ چھ فیصد رہی۔
غربت کی حد سے باہر امریکہ میں متوسط گھرانے کی آمدنی بھی سنہ دو ہزار دس میں کم ہو کر دو اعشاریہ تین فیصد ہو گئی ہے جو کہ انچاس ہزار چار سو چوالیس ڈالر ہے۔
حتٰی کہ نوجوان امریکہ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ امریکہ میں اٹھارہ برس سے کم عمر کے بائیس فیصد نوجوان غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دو ہزار نو میں یہی شرح بیس اعشاریہ سات فیصد تھی۔







