’تراسی شہری امریکی تجربات کا شکار ہوئے‘

امریکہ میں صدر کی جانب سے مقرر کردہ ایک کمیشن نے کہا ہے کہ انیس سو چالیس کی دہائی میں گوئٹے مالا میں پنسلین کا اثر دیکھنے کے لیے لوگوں میں سائفلس اور گونوریا کے جراثیم داخل کرنے والے امریکی سائنسدان جانتے تھے کہ وہ اخلاقی قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
یہ کمیشن امریکی حکومت کے ان سائنسدانوں کے کام کا جائزہ لے رہا ہے جنہوں نے جراثیم کش دوا کا اثر جاننے کے لیے گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں قیدیوں، نفسیاتی مریضوں اور جسم فروشی کے کاروبار سے منسلک افراد کے جسم میں انہیں بتائے بغیر ان بیماریوں کے جرثومے داخل کیے تھے۔
جبکہ امریکہ میں اس تجربے سے قبل تحقیق کے دوران جن افراد میں جراثیم داخل کیے گئے تھے، ان سے اس عمل کی اجازت لی گئی تھی۔
کمیشن کی سربراہ ایمی گٹمان نے اس تحقیق کو ’طبی تاریخ کا شرمناک حصہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم اس غیر اخلاقی تاریخی ناانصافی کو صحیح انداز میں ضبطِ تحریر میں لائیں۔ ہم یہ کام اس ناانصافی کا شکار افراد کے لیے کر رہے ہیں‘۔
امریکہ نے ان تجربات کے لیے گوئٹےمالا سے گزشتہ سال ہی معافی مانگی ہے جبکہ گوئٹے مالا کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ متعلقہ افراد سے معافی مانگی جائے گی کیونکہ ان تجربات میں مقامی ڈاکٹر بھی شریک تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی’حکومت گوئٹے مالا کے عوام سے سرکاری طور پر معافی مانگے گی کیونکہ امریکی رقم سے چلنے والے اس پروگرام میں مقامی ڈاکٹر بھی شامل تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس سانحے سے پوری دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں‘۔
امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے دوران انیس سو چھیالیس سے انیس سو اڑتالیس کے دوران گوئٹے مالا کے پانچ ہزار پانچ سو شہریوں پر تجربات کیے گئے۔ ان میں سے تیرہ سو افراد میں سائفلس، گونوریا اور چنچرائڈ جیسی جنسی بیماری کے جراثیم داخل کیے گئے جبکہ صرف سات سو افراد کا علاج کیا گیا۔
یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس انفیکشن سے براہ راست کتنی اموات ہوئیں تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار پانچ سو میں سے کم از کم تراسی افراد انیس سو ترّپن تک انتقال کر گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کمیشن کی پوری رپورٹ ستمبر کے شروع میں شائع ہوگی۔







