ناروے: آزاد تحقیقاتی کمیشن کا اعلان

،تصویر کا ذریعہReuters
ناروے کے وزیر اعظم یینس اسٹالٹین برگ نے دارالحکومت اوسلو میں جمعے کو ہونے والے بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔
کمیشن ان واقعات میں چھہتر افراد افراد کی ہلاکت اور پولیس کے کردار کا جائزہ لے گا جس پر الزام ہے کہ اس کا ردعمل بہت سست تھا۔
اسکے علاوہ جن علاقوں میں تشدد کے یہ واقعات ہوئے تھے وہاں کے لیے محکمہ پولیس میں مزید ایک سو آسامیاں پیدا کی جارہی ہیں۔
مسٹر اسٹولٹین برگ نے کمیشن کی اہمیت پر زور دیتے کہا کہ وہ چاہتا ہوں کہ یہ کمیشن آزاد اور انتہائی قابل اعتبار ہو۔
’اس کمیشن کے قیام کی کئی وجوہات ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا اسکا مکمل جائزہ لیا جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ متاثرہ خاندانوں اور لوگوں کے لیے بہت اہم ہے۔‘
مسٹر اسٹولٹین برگ نے کہا کہ ناروے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی اس سطح کا حملہ نہیں ہوا۔
وزیر اعظم نے ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک یادگار کی تعمیر اور ان کے ورثا کو زرِ تلافی ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک دائیں بازو کے انتہا پسند انرش بریوک نے جمعے کو ہونے والی ان ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف ناروے پولیس کے ایک اہلکار نے اوٹایا جزیرے سے انرش بریوک کی گرفتاری کا احوال تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ہاورڈ غاس باک اس پہلے پولیس ٹیم کے سربراہ تھے جو جزیرے تک پہنچنے میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ جزیرے میں پہنچنے پر پہلے وہ اس جنگل کی طرف سے گئے جہاں سے انہوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی تھیں۔ ان کے مطابق جب وہ وہاں پہنچے تو انرش بریوک اپنے ہاتھ سر سے بلند کیے کھڑے تھے اور ان کا اسلحہ ان سے پچاس میٹر دو پڑا تھا۔







