بریوک کا منشور ڈھائی سو برطانی شہریوں کو ارساں

،تصویر کا ذریعہReuters
ناروے میں ڈومیسٹک انٹیلی جنس کی سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جو انرش بیرنگ بریوک کو دائیں بازو کے شدت پسندوں سے منسلک کرے۔
انرش بریوک نے جمعہ کو ہونے والے بم حملے اور فائرنگ کے واقعہ کا اعتراف کیا تھا جس میں چھہتر افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے اپنی تحریر میں تذکرہ کیا تھا کہ انہوں نے نو سال پہلے دائیں بازوں کے شدت پسند گرہوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔
تاہم انٹیلی جنس کی سربراہ جین کرسٹیانسین کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ملزم نے اپنے طور پر یہ کارروائی کی ہے۔
دوسری جانب برطانوی اخبار دی گارڈین نے لکھا ہے کہ انرش بیرنگ بریوک کے نام سے ایک ہزار پانچ سو صفحات پر مشتمل دستاویز بشمول خودساختہ منشور اور یوٹیوب پر ایک ویڈیو یورپ بھر میں ڈھائی سو افراد کو ای میل کی گئی اور یہ کام حملے شروع ہونے سے کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے پہلے کیا گیا۔
بیلجیئم میں دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان تانگوئے وِیز کو بھی اسی طرح کا ایک ای میل کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی افراد جنہیں ای میل کیا گیا برطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے بقول ’جنہیں ای میل بھیجا گیا ان میں جرمنی، اٹلی، فرانس اور دیگر ممالک کے لوگ شامل ہیں لیکن بڑی تعداد برطانیہ کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انرش بریوک کا نام استعمال کرتے ہوئے بھیجے گئے ای میل اور اس میں موجود یوٹیوب کی ویڈیو کے لنک میں لکھا گیا ہے ’مغربی یورپ کے محب وطن‘ اور ایک جگہ لکھا گیا ہے ’یہ آپ کے لیے ایک تحفہ ہے ۔۔۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اسے اپنے ہر جاننے والے کو بھیجیں۔‘
تانگوئے ویز نے کہا ہے کہ ان کا انرش بریوک کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رہا ہے اور انہوں نے انرش کے اس عمل کی مذمت کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم بی بی کو دیے گئے انٹرویو میں ناروے کی ڈومیسٹک انٹیلی جنس کی سربراہ جین کرسٹیانسین نے کہا ’میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ اب تک ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں کوئی ایسا اشارہ ملا ہے کہ وہ (انرش) کسی بڑی تحریک کا حصہ ہے یا پھر وہ دیگر تنظیموں سے رابطے میں ہے یا پھر اس کے علاوہ دیگر لوگ بھی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں انرش بریوک دیوانہ نہیں ہے جیسا کہ ملزم کے وکیل نے دعوٰی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انرش بریوک شاطر، چالباز اور شہرت کا بھوکا ہے۔
انرش بریوک کے وکیل گیئر لِپسٹا کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان کا مؤکل عدالت میں سماعت کے دوران دیوانگی کا اعتراف کرلے حالانکہ ان کا تمام کیس ان کے مؤکل کی دیوانگی کی جانب ہی اشارہ کرتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا ’وہ سمجھتا ہے کہ وہ حالتِ جنگ میں ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جب آپ حالتِ جنگ میں ہوں تو اس کا اعتراف کیے بغیر آپ اس طرح کی کارروائی کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اُدھر ناروے کی پولیس نے ہلاک ہونے والوں کے نام جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔ تاہم پولیس لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بی بی سی نامہ نگار کے مطابق شناخت کا عمل سست ہے کیونکہ بعض افراد کو چہرے میں گولیاں ماری گئیں۔
جمعہ کو ہونے والے بم حملے میں ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں لیبر پارٹی کی حکومت کے دفتروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ ایک چھوٹے جزیرے یٹویا پر لگائے گئے لیبر پارٹی کے یوتھ کیمپ میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی تھی۔
انرش بریوک کے وکیل کے مطابق ان کا مؤکل لیبر پارٹی کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتا تھا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ملک میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے میں یہ جماعت ناکام رہی ہے۔
اس واقعہ کے بعد پیر کو کوئی ڈھائی لاکھ کے قریب افراد اوسلو کی سڑکوں پر مرنے والوں کے سوگ میں جمع ہوئے۔
انرش بریوک کو پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان پر معاشرے اور حکومت کے ضروری امور کو تہہ و بالا کرنے کے الزامات لگائے گئے اور کہا گیا کہ ان کے اس عمل سے آبادی میں زبردست خوف و ہراس پھیلا۔
انرش بریوک نے حملوں کی ذمہ داری تو قبول کرلی لیکن دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہیں آٹھ ہفتے کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا جن میں سے پہلے چار ہفتے وہ بالکل تنہا رہیں گے تاہم ان پر نظر رکھی جائے گی کہ وہ خودکشی نہ کرلیں۔







